دفاعی اخراجات بل پر صدارتی ویٹو ری پبلکن اکثریت والی سینیٹ میں رد


امریکہ میں سینیٹ نے دفاعی اخراجات بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویٹو کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ صدر ٹرمپ کے چار سالہ دور میں پہلا موقع ہے کہ جب ری پبلکن اکثریت والے ایوان نے ایسا کوئی اقدام کیا ہے۔

اس سے پہلے ایوان نمائندگان نے بھی اس بل کو پیر کو مسترد کر دیا تھا۔

سال نو کے پہلے دن ہونے والے غیر معمولی اجلاس میں سینیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار کے آخری دنوں میں 740 ارب ڈالرز کے اخراجات کے بل پر صدر کے اعتراضات کو با آسانی رد کر دیا۔

صدر نے رواں ہفتے کے اوائل میں کی جانے والی ٹوئٹ میں اپنی ہی جماعت کے قانون سازوں اور رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے کہا تھا کہ ری پبلکن پارٹی کی کم زور اور تھکی ہوئی قیادت ایک برے دفاعی بل کو منظور کرنے کی اجازت دے دے گی۔

صدر ٹرمپ نے سینیٹ کی طرف سے ان کے ویٹو کو رد کیے جانے کو نامناسب اقدام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آیا وہ نئے بل پر بات چیت کریں یا پھر اب بہتر قیادت سامنے لائیں۔

سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے ویٹو کو 13 ووٹوں کے مقابلے میں 81 ووٹوں کے ذریعے رد کیے جانے سے قبل ایوان نمائندگان میں اس بل پر صدارتی ویٹو کو 87 کے مقابلے میں 322 ووٹوں سے رد کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ بل امریکی فوج کی تنخواہوں میں تین فی صد اضافے، دفاعی حکمت عملی، فوجیوں کی تعداد کے بارے میں فیصلہ سازی کرنے، نئے دفاعی نظام اور دیگر فوجی اخراجات سے متعلق ہے۔

اس بل کی منظوری سے متعدد پروگرام، جن میں فوجی تنصیبات کی تعمیرات بھی شامل ہے، اس پر عمل در آمد ہو سکتا ہے۔

سینیٹ میں اکثریتی جماعت ری پبلکن پارٹی کے رہنما مچ مکونل کا ووٹنگ سے قبل کہنا تھا کہ کانگریس اس بل کو 59 برس سے منظور کرتی آئی ہے۔

ان کے بقول اس بار بھی وہ کسی نہ کسی طرح اتوار کو ختم ہونے والے اجلاس سے قبل اسے 60ویں بار منظور کرا لیں گے۔

مچ مکونل کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ بل ان مرد و خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جو رضا کارانہ طور پر وردی پہنتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم موقع ہے کہ جب امریکیوں کی حفاظت کے لیے قومی سلامتی کی ترجیحات کا تعین کیا جائے۔

انہوں نے اسے اپنے حریف ممالک چین اور روس کو پُر امن رکھنے کا بھی موقع قرار دیا۔

سینیٹ میں ویٹو کو رد کیے جانے میں اس وقت تاخیر ہوئی جب آزاد سینیٹر برنی سینڈرز جو کہ عمومی طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ ان کی طرف سے ووٹنگ کا عمل اس وقت تک روکنے کا مطالبہ کیا گیا کہ جب تک مچ مکونل صدر ٹرمپ کا حمایت یافتہ بل، جس میں کرونا سے متاثرہ افراد کو دی جانے والی امداد دو ہزار ڈالر تک کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس پر ووٹنگ کرانے کی حامی نہیں بھرتے۔

تاہم مچ مکونل کی طرف سے اس پر ووٹنگ نہیں کرائی گئی۔ بلکہ انہوں نے سینیٹر برنی سینڈرز اور ڈیموکریٹس کے سینیٹ میں رہنما چک شومر کی دھمکیوں کے باوجود اپنے پارلیمانی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بحث کو دفاعی بل تک محدود رکھا۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

تعلیمی شعبے میں پیدا ہونے والا خلا کیسے پر ہو گا؟

امریکہ، تعلیم کے اعتبار سے دنیا بھر میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ لیکن کرونا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *