کرونانےنیٹ فلکس اورایمیزون کارُخ ٹولی،مولی اورکولی ووڈکی جانب موڑدیا

تصویر: ایمیزون

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد سے معروف اسٹریمنگ ویب سائٹس ایمیزون اور نیٹ فلیکس سمیت بھارتی سینما بھی بالی ووڈ بلاک بسٹرزپر کوبھول کرٹولی ووڈ، مولی ووڈ اور کولی ووڈ کی فلموں کو اہمیت دے رہے ہیں۔

دنیا بھرمیں سینما دیکھنے والوں کی سب سے بڑی تعداد بھارت میں ہے جہاں درجنوں زبانوں میں فلمیں بنتی بھی ہیں لیکن ان سب سے زیادہ اہمیت ہندی فلموں کو حاصل ہے۔ پروفیشنل فلم سروسزکے ادارے ای آئی کے مطابق بالی ووڈ نے 2019 میں باکس آفس پرمجموعی طور پر 43 فیصد منافع کمایا حالانکہ اس کی ریلیز کا حصہ صرف 14 فیصد تھا۔

فنانشل ٹائم میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق کرونا کے باعث مسائل اور لاک ڈاون کی صورتحال کے باعث پروڈکشن بند ہونے سے اوریجنل کانٹینٹ کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، اسٹریمنگ گروپس اورسینمازساوتھ انڈین زبانوں میں بنی فلموں کی ڈبنگ یا سب ٹائٹلنگ پر زور دے رہے ہیں ۔

اس حوالے سے نیٹ فلکس نے دسمبر 2020 میں تامل زبان میں اپنی پہلی اوریجنل فلم ” پاوا کدھائی گل ” ریلیز کی جبکہ ایمیزون پرائم ویڈیو بھی علاقائی زبانوں میں مواد دکھانے کا اعلان کرچکا ہے جن میں تیلو کامیڈی فلم مڈل کلاس میلوڈیز، ملیالم زبان میں تھرلر سی یو سون اور ایک تامل ڈرامہ سورارائی پوٹرو شامل ہے۔

ایمیزون پرائم ویڈیو کے کنٹری منیجرگوراو گاندھی کا کہنا ہے کہ ہم ان فلموں کو دکھائیں گے جنہیں ماضی میں اپنی ریاست سے باہرنمائش کے پیش نظر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

علاقائی زبان کا مواد آگے بڑھانے کےعمل کا آغازکرونا وائرس سے پہلےہوا تھا لیکن کرونا کے بعد سے اس میں مزید تیزی آئی ۔ بھارت میں امریکی اسٹریمنگ پلیٹ فارمزاس محاز پر مقابلے میں ہیں جوانگریزی اور ہندی بولنے والوں تک پہنچ کے علاوہ بھی اسے مزید آگے بڑھانا چاہتی ہیں کیونکہ بھارت کا شمار دنیا کی معروف ترین انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ہوتا ہے۔

انڈسٹری کے ایک ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلمیں کامیاب رہتی ہیں ت بالی ووڈ پروڈیوسرزکو ہندی بلاک بسٹرزریلیز کرنے کی ترغیب دے سکتی ہیں جن کا 2020 میں سینما ڈیبیو کرونا وائرس کے باعث موخر ہوا، ان میںانیل امبانی کی ریلائنس انٹرٹینمنٹ کی کرکٹ سے متعلق فلم ” 83 ” بھی شامل ہے۔

ایگزیکٹو کے مطابق ساوتھ انڈین سینماکا کردار اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ہمیں کانٹینٹ کی کمی کا سامنا ہے، اگرلوگ دلچسپی لیتے ہیں اور یہ فلمیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں تو اس سے دوسرے پروڈیوسرز کو بھی کافی اعتماد ملے گا۔

ای وائی میں میڈیا اور تفریحی پارٹنرراکیش جریوالا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا “وہ تجربہ کر رہے ہیں، انہیں کام جاری رکھنے کے لئے مواد درکار ہے۔”

بھارت کی جنوبی ریاستوں مثلا تمل ناڈو (کولی وڈ) ، تلنگانہ (ٹولی وڈ) اور کیرالہ (مولی وڈ) میں مقامی زبان کی فلمی صنعتیں پہلے سے ہی کافی معروف ہیں اور وہاں ایسی کامیاب فلمیں اور ستارے تیارہو رہے ہیں جن کی عالمی سطح پربھی پیروی کی جا رہی ہے۔ تیلگو زبان کی 2017 میں ریلیز کی جانے والی ایکشن فلم ”باہوبلی 2” اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلموں میں سے ایک تھی۔

اسٹریمنگ اداروں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے شمال اور بیرون ملک بڑی تعداد میں ہندی بولنے والے افراد کی علاقائی پروڈکشنز میں دلچسپی بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 2021 کے اکیڈمی ایوارڈز میں ایمیزون پرائم ویڈیو پر دکھائے جانے والے ملیالم زبان کے تھرلرڈرامے ” جلی کٹو” کی بھارت کی جانب سے باضابطہ انٹری شامل تھی۔

فلمی ناقد سُپرنا شرما کے مطابق جنوبی ہندوستانی فلموں کو محدود ریلیزکےمواقع ملتے تھے ، اب لاک ڈاؤن اور کووڈ کے ساتھ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کانٹینٹ کے لئے بیتاب اور بھوکے ہیں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

دسمبر میں 28 لاکھ امریکیوں کو ویکسین دی گئی، ہدف دو کروڑ تھا

ویب ڈیسک —  دسمبر کی آخری تاریخ تک امریکہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *