دنیا کو کرونا کے نقصان کے ازالے میں کئی برس لگ جائیں گے: اقوامِ متحدہ


اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ہونے والا نقصان صرف ویکسین کے آنے سے ختم نہیں ہو گا بلکہ اس میں کئی برس یا شاید عشرے لگ جائیں گے۔

جمعرات کو کرونا وائرس پر عالمی ردِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی وبا سے پیدا ہونے والا نقصان بہت بڑا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جنرل اسمبلی کی دو روزہ ویڈیو سمٹ سے 80 کے قریب ممالک کے سربراہ خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ سائنس دان، ماہرین، اقوامِ متحدہ کی متعدد ایجنسیوں کے سربراہ اور عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل بھی خطاب کریں گے۔

اقوامِ متحدہ نے جمعرات کو ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق رواں برس کرونا وائرس سے اب تک تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد شدید غربت کی جانب چلے گئے ہیں جب کہ اس کے ردِ عمل میں اقوام متحدہ نے لاکھوں لوگوں تک امداد پہنچائی ہے۔

انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر کی پیداوار کے 10 فی صد پر مبنی امدادی فنڈ مقرر کیا جائے جس سے متاثرہ ملکوں کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے باعث قرضوں کے بوجھ تلے ملکوں کو بھی ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

کرونا وائرس کی پہلی منظور شدہ ویکسین کی ترسیل بھی آئندہ ماہ متوقع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چیف نے تمام ملکوں میں ویکسین کی منصفانہ ترسیل پر بھی زور دیا ہے۔

برطانیہ نے حال ہی میں امریکی دوا ساز کمپنی ‘فائزر’ اور جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کے اشتراک سے بننے والی ویکسین کی منظوری دی تھی۔ یہ ویکسین اگلے دو ہفتوں میں لگائی جائے گی جس کے لیے برطانیہ میں کام شروع کر دیا گیا ہے۔

رواں برس اپریل میں عالمی ادارۂ صحت کی جانب ویکسین کے ٹیسٹ، علاج اور ویکسین کی منصفانہ ترسیل کے لیے COVAX” کے نام سے نیا ادارہ بنانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے چیف کے مطابق اس منصوبے کو فوری طور پر 28 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہے جس میں اگلے دو ماہ میں 4.3 ارب ڈالر فوری درکار ہوں گے۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے صدر چارلس مائیکل نے کہا کہ دنیا کو وبا کے معاملے پر ایک عالمی معاہدہ کرنا چاہیے جس سے کسی بھی وبا کے ردِعمل کو بہتر بنایا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا مقصد پہلے سے بہتر ردِعمل ظاہر کرنا ہے۔ اور ان جگہوں پر بہتری لانا ہے جہاں باہمی تعاون کے ذریعے کام کی ضرورت ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کو ایسا نظام بنانا چاہیے جو دوسرے ممالک کو فوری طور پر متنبہ کر سکے اور اس کے علاوہ غریب ممالک میں کرونا ویکسین کی ترسیل کے لیے منصفانہ نظام بنایا جائے۔

انہوں نے فرانس کی جانب سے ویکسین کی ترسیل کے لیے نظام کے قیام کے لیے امداد کا بھی اعلان کیا۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 15 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ساڑھے چھ کروڑ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *