بڑی بہن کے ساتھ باپ کی درندگی سے تنگ آکر چھوٹی بہن نے کی یہ فریاد – Urdu News

میری ماں عموما میری دادی کی دیکھ بھال کے لئے گاوں جاتی رہتی ہے اور کئی بار ہفتوں وہاں رہ جاتی ہے۔ اس مدت کے دوران میرے والد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ہمارے کمرے میں سونے کے لئے چلے آتے ہیں اور وہ میری بہن کے بستر پر سو جاتے ہیں کیونکہ میں انہیں اپنے بستر پر سونے نہیں دیتی۔

بڑی بہن کے ساتھ باپ کی درندگی سے تنگ آکر چھوٹی بہن نے کی یہ فریاد

علامتی تصویر

سوال 6۔ میں 17 سال کی بی اے کی طالبہ ہوں۔ میرے والد کاروباری ہیں اور ماں گھریلو خاتون۔ ہم دو بہنیں ہیں۔ میں اور میری بڑی بہن۔ میری بہن 27 سال کی ہے۔ ابھی حال ہی میں اپنے گھر میں میں نے سیکس سے متعلق کچھ غیر فطری باتیں ہوتی ہوئی دیکھی ہیں اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں کیا کروں۔ میری ماں عموما میری دادی کی دیکھ بھال کے لئے گاوں جاتی رہتی ہے اور کئی بار ہفتوں وہاں رہ جاتی ہے۔ اس مدت کے دوران میرے والد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ہمارے کمرے میں سونے کے لئے چلے آتے ہیں اور وہ میری بہن کے بستر پر سو جاتے ہیں کیونکہ میں انہیں اپنے بستر پر سونے نہیں دیتی۔ کئی بار ہم نے کمبل کے نیچے کچھ حرکتیں ہوتے ہوئے دیکھی ہیں۔ ایک بار جب کمرے میں روشنی کم تھی میں نے اپنے والد کو بہن کی پیٹھ اور پستان کو سہلاتے ہوئے دیکھا ہے اور ایسا وہ ہم کو دکھا کر کر رہے تھے اور شاید مجھے بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت وہ دے رہے تھے۔ 10 منٹ کے بعد وہ لوگ کمبل کے اندر چلے گئے اور پھر اس کے اندر غیر معمولی سی حرکتیں ہوتی مجھے دکھیں۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ سیکس کر رہے تھے۔ میں اس کے بارے میں اپنی ماں کو نہیں بتا سکتی کیونکہ میرا کنبہ برباد ہو جائے گا۔ برائے مہربانی بتائیں میں کیا کروں۔

مجھے یہ سب سن کر افسوس ہو رہا ہے۔ آپ کے والد جو کر رہے ہیں وہ قابل سزا جرم ہے۔ یہ جنسی استحصال ہے۔ آپ کی اطلاع کے لئے بتا دوں کہ نابالغ کے طور پر قانون کا پورا تحفظ آپ کو ملا ہوا ہے، آپ گھبرائیں نہیں اور فکر مت کریں۔

میں اس بات پر زور دوں گا کہ آپ اپنی بہن سے بات کر کے یہ معلوم کریں کہ آپ کے والد اس کے ساتھ یہ سب اس کی مرضی کے خلاف کر رہے ہیں یا نہیں۔ آپ یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی بہن آپ پر بھروسہ کرتی ہے اور آپ اس سے تب بات کریں جب آپ کے والد آس پاس نہیں ہوں اور آپ ان کے ساتھ اکیلی ہوں۔ یہ یقینی بنائیں کہ آپ سے بات کر کے اس کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایک بار جب آپ اپنی بہن کی صورت حال کو سمجھ لیتی ہیں کہ آپ کے والد اس کے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں یا نہیں، آپ مدد لینے کی بات سوچ سکتی ہیں۔ میں آپ سے اپیل کروں گا کہ آپ بچوں کے استحصال ہیلپ لائن نمبر 1098 یا ایچ اے کیو (HAQبچوں کے حقوق کے مرکز سے رابطہ کریں۔ اس ادارے کے کارکنان آپ سے رابطہ کریں گے اور آپ کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور آپ جیسی بھی مدد چاہیں گی وہ کریں گے۔ آگر آپ چاہیں گی تو وہ آپ کو اس گھر سے نکال لیں گے، آپ کو قانونی مدد دستیاب کرائیں گے اور عدالت سے آپ کے تحفظ کا آرڈر لے لیں گے۔ آپ ایسا کرنے کی سوچیں کیونکہ آپ اور آپ کی بہن اس گھر میں اپنے والد سے محفوظ نہیں ہیں۔

یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ آپ نہیں چاہتی ہیں کہ آپ کی ماں کو ان باتوں کا پتہ چلے۔ لیکن آپ یہ سمجھئے کہ ان کو جاننے کا حق ہے۔ آپ ان کے بچے ہیں اور یہ شخص آپ کی ماں کا شوہر ہے۔ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ آپ لوگوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے جب وہ گھر میں نہیں ہوتی ہے۔ ایک شوہر کے طور پر بھی وہ اس پر یقین کرتی ہیں۔ ان کو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ شخص جو ان کا شوہر ہے ان کے اعتماد کو توڑ رہا ہے اور ان کی بیٹیوں کا جنسی استحصال کر رہا ہے۔ آپ کے والد  کی کرتوت سے آپ کی زندگی برباد ہو رہی ہے اور آپ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ذمہ داری اس کی ہے، آپ کی نہیں۔ آپ کو مدد دستیاب ہے۔ مضبوط بنو۔ جو صحیح ہے وہ کرو۔ اپنی بہن، اپنی ماں اور سب سے اہم اپنے لئے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 

سرینگر —  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *