لاک ڈاؤن خلاف ورزی پر گرفتاریاں؛ کووڈ-19 مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ


بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس یا کووڈ-19 سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہفتے کو مزید 12 افراد کا ٹیسٹ مثبت نکلا۔ دو ہفتے پہلے علاقے میں کووڈ-19 کے پہلے کیس کی دریافت کے بعد اب تک کسی ایک دن میں اس طرح خطرناک وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں اضطراب بڑھ گیا ہے اور حکام بھی خاصے پریشان نظر آ رہے ہیں۔

اس طرح لداخ سمیت سابقہ ریاست میں کووڈ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 46 ہوگئی ہے، جبکہ اس وقت ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور مزید چھ ہزار افراد ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔

ایک شخص پہلے ہی فوت ہو چکا ہے۔ اکثر متاثرہ افراد حال ہی میں بیرون ملک یا بھارت کے مختلف علاقوں کے سفر کے بعد گھر لوٹے تھے یا انہوں نے ہلاک ہونے والے شخص کے ساتھ تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں شرکت کی تھی۔

اس دوران، اس خطرناک اور جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جموں و کشمیر میں دس دن سے لاگو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے یا ان کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔ گرفتار کیے گیے افراد میں دو پیش امام بھی شامل ہیں، جنہوں نے نماز جمعہ پڑھانے کی کوشش کی تھی۔

چھ سو نجی گاڑیوں کو ضبط اور درجنوں دکانوں کو دفعہ 144 اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت عائد کی جانے والی پابندیاں توڑنے کے الزام میں سیل کر دیا گیا ہے۔

پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جمعے کی شام تک 326 ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں۔ انہوں نے لوگوں سے صورتِ حال کی شدت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں تک محدود کرنے کی اپیل دہرائی۔

وادی کشمیر اور جموں کے کئی علاقوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے گھروں سے باہر آنے والوں کی تذلیل کرنے اور انہیں مارنے پیٹنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس طرح کے چند واقعات کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔ شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کی وجہ سے پولیس کو سوشل میڈیا پر شدید نکتہ چینی کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ادھر، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک پولیس اہلکار کو شہریوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر نہ صرف ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے بلکہ اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔

ہفتے کو حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے کہا کہ جاری لاک ڈائون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے سڑکوں پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ‘ناقابل قبول رویے’ کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ناقابل قبول رویے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا”۔

سری نگر کے رینہ واری علاقے میں واقع جواہر لال نہرو میموریل اسپتال میں قرنطینہ میں رکھے گئے افراد نے مبینہ ناکافی طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے خلاف مظاہرہ کیا اور اس دوران اسپتال میں توڑ پھوڑ کی۔

افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قرنطینہ میں رکھے گیے چھبیس افراد اسپتال سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیے۔ تاہم، سری نگر کے ضلع کمشنر شاہد اقبال چوہدری نے کہا کہ ان سب کو اسپتال واپس لایا گیا ہے۔ حکام نے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر ایک خاتون ڈاکٹر کو نوکری سے نکال دیا ہے اور ایک اور کو لاپرواہی برتنے کے الزام میں معطل کر دیا ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 

سرینگر —  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *