تمام ملکوں کو کرونا وائرس اور معاشی دباؤ کا یکساں سامنا ہے


جمعرات کے روز دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کے رہنماؤں نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے ایسے میں کرونا وائرس کے ساری دنیا میں پھیلاؤ پر تبادلہ خیال کیا جب کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ بڑی معیشتیں آنے والے دنوں میں اس وبا کا بڑا مرکز بننے جارہی ہیں۔

نامہ نگار پاسٹے ویڈاسوارا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیو یارک میں نیشنل گارڈز ایک بڑے کنونشن سینٹر کو اسپتالوں میں بستروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عارضی طبی سہولت میں تبدیل کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور اسی نوعیت کے انتظامات امریکہ کے دوسرے علاقوں میں بھی کئے جا رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ بھی ان بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس مرض کا مرکز بننے والی ہیں اور یہاں مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان اعداد و شمار کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ درحقیقت چین میں کتنے مریض تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو اپنے مریضوں کی صحیح تعداد بتانی چاہیئے۔ اور انہوں نے ملکی معیشت کو بچانے کے لئے ایک بار پھر ملک کے کچھ حصوں کو کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن، صحت عامہ کے ماہرین سماجی فاصلے کی گائیڈ لائنز میں جلد ہی کسی نرمی کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔

جینیفر نوزو جانز ہاپکنز کے بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں ان امراض کی ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس بات کا ثبوت دیکھنا چاہتے ہیں کہ انفیکشن اس حد تک کم ہو رہے ہیں کہ کسی مرحلے پر ہم بعض پابندیاں اٹھا سکیں۔

مکس سیڈمور، جنہوں نے کتاب پریزیڈنٹ، پاینڈامکس ایند پالیٹکس لکھی ہے، کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں حالات بہتر ہونے سے پہلے کہیں زیادہ خراب ہوں گے۔ وہ کہتے کہ ماضی میں ہم دنیا بھر کے لیڈر تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں آج بہت تھوڑے لوگ قیادت کے لیے امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

تاہم ایک اور ممتاز تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہر جہانگیر خٹک نے نیویارک سے بتایا کہ اس وقت کوئی بھی ملک یا لیڈر اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ دنیا صرف اسی کی طرف دیکھے یا وہ تنہا کچھ کر سکے۔ اس لئے کہ اس وقت دنیا کا ہر بڑا اور چھوٹا ملک خود اپنی مصیبت میں گرفتار ہے۔ اور پوری دنیا کو اس وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ ایک کرونا کا محاذ اور دوسرا معاشی محاذ۔

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہی ہے کہ اس وبا کے آغاز میں چین سے صحیح اطلاعات نہیں آ رہی تھیں، اس لئے امریکہ سمیت کوئی بھی ملک اس کی شدت کا اندازہ کر کے اس کے انسداد کے لئے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اور جب صورت حال کچھ واضح ہوئی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔

جہانگیر خٹک نے کہا کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا امریکہ میں بھی اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ صدر سمیت تمام اداروں کو پوری توجہ اندرونی صورت حال پر مرکوز کرنی پڑ رہی ہے۔

امریکہ میں بیشتر ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں کہ سوشل ڈیسٹنس یا سماجی فاصلے کی گائیڈ لائنز میں فی الحال کوئی نرمی کی جائے۔ دیکھئے آنے والے دن کیا لے کر آتے ہیں۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *