امریکہ کا بھی ٹوکیو اولمپکس ملتوی کرنے کا مطالبہ

کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد اب امریکہ بھی ‘کووڈ-19’ یعنی کرونا وائرس کے سبب ٹوکیو اولمپک 2020 کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔

امریکی اولمپک اور پیرا اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے کھلاڑیوں سے کھیلوں کے التوا پر مشاورت کی تھی جس میں تمام کھلاڑیوں نے گیمز کے التوا کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کھلاڑیوں کی صحت سے متعلق تحفظات برقرار رہنے تک وہ اپنے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گا کیوں کہ کھلاڑیوں کی صحت سے متعلق تشویش دور ہونے تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔

امریکہ اولمپک گیمز کی تاریخ کا سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے والا ملک ہے جب کہ اولمپکس کو نشر کرنے کے لیے امریکی براڈ کاسٹر این بی سی کے ساتھ ہونے والے حقوق کا معاہدہ آئی او سی کے سالانہ محصولات کا 50 سے 70 فی صد ہے۔

جاپان کے ایک روزنامے سنکیے نے منگل کو شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا ہے کہ حکومت آئی او سی کے ساتھ اولمپک گیمز2020 کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے سے متعلق بات چیت کر رہی ہے۔ اگر ان کھیلوں کو ملتوی کیا گیا تو یہ اولمپک گیمز کی 124 سالہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا۔

آئی او سی اور جاپانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک ماہ تک مشاورت کریں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ التوا کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

پیر کو آئی او سی بورڈ کے سابق ممبر ڈک پاؤنڈ نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ کمیٹی کرونا وائرس کی وبا کے سبب اولمپک گیمز کو ممکنہ طور پر ایک سال کے لیے ملتوی کرنے پر آمادگی ظاہر کردے گی۔

کینیڈا اور آسٹریلیا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر اولمپک رواں سال شیڈول کے مطابق ہوئے تو وہ اپنے کھلاڑی ٹوکیو نہیں بھیجیں گے۔

اولمپکس کا التوا میزبان ملک جاپان کے لیے ایک دھچکا ہوگا جس نے اب تک 12 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

ون ڈے رینکنگ، بابر ٹاپ 3 بلے بازوں میں شامل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جاری کردہ نئی ون ڈے رینکنگ میں بلے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *