کرونا وائرس کا بحران اور ٹیلی ورکنگ

اس وقت امریکہ اور دنیا بھر میں کرونا وائرس کے بحران کے باعث لوگوں کو گھروں سے دفتر کا کام کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ اگرچہ امریکہ اور دنیا بھر میں لاکھوں ملازمین جز وقتی یا کل وقتی ٹیلی ورکنگ کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ عمومی طور پر اکثریتی ملازمین کے لیے ایک پہلا اور منفرد تجربہ ہے۔

ٹیلی ورکنگ کا یہ تجربہ کیسا محسوس ہو رہا ہے اور اس کے کیا فائدے اور کیا نقصان ہیں، اس بارے میں وائس آف امریکہ واشنگٹن نے امریکہ اور دنیا بھر کے کچھ ملازمت پیشہ افراد کے انٹرویوز کیے۔

ڈاکٹر خالدہ ذکی۔ مشی گن

مشی گن یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ ذکی نے واٹس ایپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس وقت کرونا وائرس کا بحران تکلیف دہ محسوس ہو رہا ہے لیکن اس دوران انہیں گھر سے کام کرنا اچھا لگ رہاہے اور کام اور گھر میں ایک بیلنس قائم کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ٹیلی ورک کر کے ہم خود کو اور دوسروں کو اس وائرس سے بچانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور گھر میں زیادہ پر سکون طریقے سے کام بھی کر رہے ہیں اور درمیان میں کچھ وقت گپیں لگا کر اس مشکل وقت میں تھوڑی سی ٹینشن کم کر کے اس پریشانی سے کچھ دیر کو اپنی توجہ بھی ہٹا رہے ہیں۔

ڈاکٹر خالدہ ذکی نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ دونوں آپشنز کھلی ہونی چائیں۔ جب آپ آفس جانا چاہیں اور وہاں پارکنگ کی سہولت ہو اور ساتھیوں کی شکلیں دیکھنی ہوں تو کبھی کبھی دفتر چلے جائیں لیکن زیادہ تر وقت گھر سے ہی کام کرنا چاہئے۔ اس سے دفتر جانے کی تیاری کا وقت بچے گا، پولیوشن کم ہو گی اور اللہ کی زمین کو کچھ سکون کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔

شہزاد اعوان۔ کینیڈا

کینیڈا میں ایک اکاؤنٹنگ فرم سے وابستہ شہزاد اعوان نے وائس آف امریکہ کو ایک ٹیلی فونک انٹر ویو میں بتایا کہ ان کے آفس میں پہلے ہی سے گھر سے کام کرنے کی اجازت تھی اور وہ جب بھی چاہتے تھے گھر سے کام کرتے تھے۔ لیکن اب اکثر لوگوں کو گھر سے کام کرنے کا جو موقع مل رہا ہے اس کا کہ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ ہم خود کو اور دوسروں کو کویڈ19 سے بچا رہے ہیں۔

شکیل اعوان۔ کینیڈا

شکیل اعوان۔ کینیڈا

تاہم انہوں نے کہا کہ ٹیلی ورکنگ کو دفاتر میں روٹین بنانا بہت سے اداروں میں کام کی نوعیت کے اعتبار سے شاید ممکن نہ ہو سکے، لیکن اگر کام کی نوعیت اجازت دے تو ٹیلی ورک کے بہت سے فائدے ہیں۔ مثلاً اگر کار چلا کر دفتر نہیں جا رہے تو گیس کی اور وقت کی بچت ہے۔ ماحول کی آلودگی کم ہوتی ہے۔ ہم کام کے دوران اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے کام بھی نمٹا سکتے ہیں اور فیملی کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ جو بہت زیادہ سوشل ہوتے ہیں، وہ ممکن ہے کہ گھر سے کام کرتے ہوئے اکتا جائیں، لیکن وہ خود اور ان کے خیال میں زیادہ تر لوگ ٹیلی ورکنگ کوپسند کر سکتے ہیں۔

اریبہ مظہر۔ جرمنی

اریبہ۔ جرمنی

اریبہ۔ جرمنی

اریبہ مظہر جرمنی کے اقتصادی گڑھ لکژمبرگ میں اکاؤنٹنٹ ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے دفترکی ہدایت پر گھر سے ہی کام کر رہی ہیں۔ انہیں ایک خاتون ہونے کے ناطے یہ ایک اچھا تجربہ لگ رہا ہے۔ انہوں نے بھی اس کے فائدوں میں ٹریفک کے رش میں پھنسنے سے بچاؤ اور دفتر آنے جانے کے وقت کی بچت اور گھر کے ماحول میں کارکردگی بہتر ہونے کی بات کی لیکن انہوں نے کہا کہ ٹیلی ورکنگ کا نقصان یہ ہے کہ دفتر میں تو ہم نو سے پانچ بجے کے بعد جو کام رہ جاتا ہے، اسے اگلے دن پر چھوڑ کر گھر آ جاتے ہیں، لیکن گھر سے کام کرتے ہوئے ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس کام کو اسی دن ختم کیا جائے خواہ وہ آفس ٹائم کے بعد ہی ہو۔ اس لیے ہم در اصل آٹھ گھنٹے نہیں بلکہ پورے دن کے لیے دفتر سے بندھے رہتے ہیں اور یوں کبھی کبھی اس کی وجہ سے گھریلو زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

لائبہ تسکین۔ اسلام آباد

اسلام آباد پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے کی ایک سوفٹ ویئر انجینیئر لائبہ تسکین نے کہا کہ ان کا آفس انہیں ٹیلی ورکنگ کی اجازت نہیں دیتا، لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے اب وہ گھر سے ہی دفتر کا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی سہولت سے اب گھر سے کام کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ دفتر جانے آنے کے وقت، پٹرول اور کرائے کی بچت ہوتی ہے، پھر گھر میں انسان زیادہ سکون کے ساتھ زیادہ بہتر اور زیادہ کام کرتا ہے۔ اس کی پروڈکٹیویٹی بڑھ جاتی ہے اور لوگ کئی کام ایک وقت میں کر سکتے ہیں۔ جب کہ دفتر میں آٹھ یا نو گھنٹے تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے سے صحت متاثر ہوتی ہے اور دفتر کی یکسانیت سے پیدا ہونے والی تھکاوٹ کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے ہنستےہوئے بتایا کہ خواتین کو جو وقت دفتر جانے کے لیے تیار ہونے اور میک اپ کرنے میں لگتا ہے، وہ بھی بچ جاتا ہے اور اس دوران گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی نمٹائے جا سکتے ہیں۔

لائبہ تسکین نے جو جدید تحقیقی ریسرچز کا مطالعہ کرتی رہتی ہیں سائنسی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ ایک عام کارکن دفتر میں مجموعی طور پر کل چار گھنٹے ہی کام کرتا ہے باقی وقت وہ دوسرے ایسے کاموں میں صرف کرتا ہے جو صرف خانہ پری کے ہی ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر گھر میں دفتر کا کام کیا جائے تو وہ چار گھنٹوں میں مکمل کام کیا سکتا ہے اور باقی وقت دفتری امور سے متعلق اپنے علم اور ہنر کو بہتر بنانے یا کسی دوسری مثبت سر گرمی یا گھریلو امور نمٹانے میں صرف کئے جا سکتے ہیں ہے لائبہ کا کہنا تھا کہ وہ ٹیلی ورکنگ کو بہت زیادہ پسند کرتی ہیں اورچاہتی ہیں کہ اسے زیادہ سے زیادہ پروموٹ کیا جائے۔

اسامہ رحیم۔ جرمنی

لکشمبرگ جرمنی میں ایک آڈٹ فرم کے آڈیٹر اسامہ رحیم نے وائس آف امریکہ کو واٹس ایپ پر ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگرچہ کرونا وائرس کی موجودہ صورت حال بہت تکلیف دہ ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ ٹیلی ورک کرتے ہوئے بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ کیونکہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے دفتر کا کام گھر میں کرنے میں زیادہ مشکلات نہیں ہوتیں۔ ٹیلی ورکنگ سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور گھر کے ماحول میں انسان زیادہ بہتر کام کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ مینیجر ہیں تو اپنے ماتحتوں پر اتنی زیادہ نظر نہیں رکھ سکتے اور اگر آپ مینیجر نہیں ہیں تو مینیجر اور دوسرے ساتھی ملازمین سے رابطہ زیادہ رکھنا پڑتا ہے فون پر زیادہ بات کرنا پڑتی ہے لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اچھا تجربہ ہے اور ٹیلی ورکنگ کو پروموٹ کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد کی سوفٹ وئیر انجینیر لائبہ تسکین کا کہنا تھا کہ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دفتر میں جو لوگ واقعی کام کرتے ہیں ان کی کارکردگی کھل کر سامنے آتی ہے اور جو لوگ دفتر میں کام سے زیادہ کام کرنے کی ایکٹنگ میں وقت گزارتے ہیں اور باس کی نظر میں اچھے بنے رہتے ہیں، ان کی کارکردگی کا بھی پتا چل جاتا ہے اور کام کرنے والوں کی کارکردگی کی پرکھ میں انصاف ہو سکتا ہے۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *