اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی چار روزہ دورے پر پاکستان آمد

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس چار روزہ دورے پر اتوار کو پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرام سمیت دیگر عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا ہے۔

پاکستان میں قیام دوران انتونیو گوتریس افغان مہاجرین سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کے علاوہ صدر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کریں گے۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے 40 سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے تعاون سے اسلام آباد میں پیر سے دو روز کانفرنس ہو رہی ہے۔

کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، وزیر اعظم عمران خان، امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے ساتھ ساتھ 20 ممالک اور نجی اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس کا موضوع ‘یکجہتی کے نئی شراکت داری’ ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فارقی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی اس موقع پر ایک بین لاقوامی کانفرنس میں شرکت پاکستان کی گزشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی کھلے دل سے میزبانی کرنے کے عزم اور افغانستان میں امن و استحکام کی کوششو ں کا اعتراف ہے۔

پاکستان آمد سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان اقوم متحدہ کے عالمی امن مشن کے لیے مستقل طور پر قابل اعتماد تعاون فراہم کرنے والا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سر انجام دینے پر عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لیے پاکستان جا رہا ہوں۔

اسلام آباد میں آئندہ ہفتے ہونے والی افغان مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب افغانستان میں قیام امن کی کوششیں مثبت سمت کی طرف گامزن بتائی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار نجم رفیق کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس ایک اہم موقع پر ہو رہی ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے طے پانے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

ان کے بقول یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے نہ صرف اس خطے کے لیے بلکہ یہ افغانستان کے لیے بھی اہم ہے۔

نجم رفیق کے بقول پاکستان ایک عرصے سے یہ بات کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں جب بھی حالات بہتر ہوں پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس چلے جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہو گا تو افغان مہاجرین کی واپسی کی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان گزشتہ 40 سال سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے اور اس وقت بھی ایک انداز کے مطابق رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ 25 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں۔

تجزیہ کار نجم رفیق کے بقول اسلام آباد ہمیشہ سے کابل کے ساتھ یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے کہ افغانستان اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کرے۔

نجم رفیق نے مزید کہا کہ اسلام آباد آئندہ ہفتے افغان مہاجرین سے متعلق ہونے والی کانفرنس بھی اسی معاملے سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہو بھی جاتا ہے تو افغان مہاجرین کی واپسی اتنی آسان نہیں ہو گی۔ ایک تو اس کے لیے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کا کردار اہم ہے تاہم اقوام متحدہ کے اپنے فنڈز کم ہوتے جا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے لیے درکار فنڈز حاصل کرنے کی راہ میں مسائل رہیں گے۔ ان مہاجرین کی واپسی کے لیے فنٖڈز کی ضرورت ہو گی اس لیے بین الاقوامی بداری کو اس پر غور کی ضرورت ہے کیوں کہ اس وقت دنیا کی معاشی صورت حال بہتر نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک طویل عمل ہوگا کہ افغان مہاجرین کب اور کیسے اپنے وطن واپس لوٹ سکیں گے۔

تجزیہ کار نجم رفیق کے بقول افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے افغانستان میں امن کا قیام ضروری ہے کیوں کہ امن کے بغیر اٖٖٖفغان مہاجرین واپسی پر تیار نہیں ہوں گے۔

مبصرین کے مطابق دنیا میں کئی دیگر بحرانوں کی وجہ سے عالمی برداری کی توجہ افغان مہاجرین کے معاملے میں کم ہوئی ہے۔ پاکستان کے مطابق وہ مشکل معاشی صورت حال کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔ اب اسلام آباد بین الااقوامی برادری کے تعاون سے ان مہاجرین کی با وقار واپسی کا خواہاں ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کرونانےنیٹ فلکس اورایمیزون کارُخ ٹولی،مولی اورکولی ووڈکی جانب موڑدیا

تصویر: ایمیزون کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد سے معروف اسٹریمنگ ویب سائٹس ایمیزون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *