سفارت کاروں کی بھارتی کشمیر میں ڈل جھیل کی سیر

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی میں تعینات سفارت کاروں کے وفد نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔ وفد میں دو درجن ملکوں کے سفارتی اہل کار شامل تھے۔

ان ممالک میں کینیڈا، آسٹریا، ہالینڈ، جرمنی، بلغاریہ، پولینڈ، ڈنمارک، اٹلی، فرانس، افغانستان، وسطی ایشیا اور افریقی ممالک کا سفارتی عملہ شامل تھا۔

بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں اور دوسرے اعلیٰ افسران نے سفارت کاروں کو جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

بریفنگ کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور لائن آف کنٹرول (ایل و سی) پر پاکستانی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے واقعات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وفد کو سرینگر کی ‘ڈل جھیل’ کی سیر بھی کرائی گئی۔

وفد نے شمالی مغربی ضلع بارہ مولہ سے تعلق رکھنے والے کسانوں اور تاجروں سے بھی ملاقات کی۔ بعدازاں سفارت کاروں نے سیاسی جماعتوں، خواتین، تاجروں اور صحافیوں کے نمائندہ وفود سے بھی ملاقاتیں کیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ دو روزہ دورے کے دوران جمعرات کو بھی وفد مختلف مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کرے گا۔

سفارت کاروں سے ملنے والے افراد کا انتخاب ان کے میزبانوں نے کیا ہے۔ سفارت کاروں کا یہ وفد بھارتی وزارتِ خارجہ کی دعوت پر نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کررہا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دعوت نامہ موصول ہونے کے باوجود نئی دہلی میں تعینات روسی سفیر نے وفد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔

یہ غیر ملکی سفارت کاروں کا دوسرا گروپ ہے جو ایک ماہ میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کر رہا ہے۔ جنوری کے دوسرے ہفتے میں جن سفارت کاروں نے ایک وفد کی صورت میں سرینگر اور جموں کا دورہ کیا تھا ان میں نئی دہلی میں تعینات امریکہ کے سفیر کینتھ اے جسٹر بھی شامل تھے۔

البتہ یورپی یونین کے سفیروں نے یہ کہہ کر دورے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ بغیر حفاظتی اقدامات کے اپنی مرضی سے لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ لیکن موجودہ دورے میں یورپی ممالک کے نمائندوں کی شرکت کو بھارت کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں اہمیت دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ یورپی پارلیمان میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے متعلق پانچ اگست 2019 کے اقدامات اور شہریت بل کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی ہے۔ جس پر ووٹنگ مارچ میں ہو گی۔

اس سے قبل اکتوبر 2019 میں یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 23 قانون سازوں کے ایک وفد نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا تھا۔

یورپ کے گیارہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامل ان اراکینِ پارلیمنٹ کا بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کا یہ مکمل طور پر گائیڈڈ ٹور تھا۔ جو بھارتی ذرائع ابلاغ کے ایک حصے کی شدید نکتہ چینی کا ہدف بنا تھا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں خصوصاً انڈین نیشنل کانگریس نے بھی اس دورے کو ہدف تنقید بنایا تھا۔

کانگریس کے ایک سینئر لیڈر اور سابق وفاقی وزیر سیف الدین سوز نے پارٹی کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو کشمیر کی سیر کرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اُن کے بقول “ان سفارت کاروں کو ان کے میزبان کشتیوں میں بٹھا کر ڈل کی سیر کراتے ہیں۔ وہ عام لوگوں سے مل کر ان کے خیالات نہیں جان سکتے۔ اور نہ ہی عوام میں ساکھ رکھنے والے سیاست دانوں سے مل سکتے ہیں۔

تاہم منگل کو امورِ داخلہ کے وفاقی وزیرِ مملکت جی کشن ریڈی نے نئی دہلی میں پارلیمان کے ایوانِ زیرین لوک سبھا میں بتایا کہ کسی بھی بھارتی شہری کے وفاق کے زیرِ انتظام جموں و کشمیرکا سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاروں کو بھی ایسا کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔

خیال رہے کہ پانچ اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد حالات معمول پر نہیں آ سکے۔

البتہ بھارتی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ وادی میں صورتِ حال معمول پر آ رہی ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 

سرینگر —  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *