افغانستان کو فوری 73 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے: اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ نے امدادی اداروں اور حکومتوں سے افغانستان کے لیے 73 کروڑ ڈالر کی مزید ہنگامی امداد طلب کی ہے۔ یہ امداد ایسے وقت میں طلب کی گئی ہے جب افغانستان میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے نائب خصوصی مندوب ٹوبی لینزر نے پیر کو کہا کہ افغانستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال 94 لاکھ افراد کو خوراک اور رہائش کی ضرورت ہے جب کہ 2019 میں ایسے افراد کی تعداد 65 لاکھ تھی۔ اس وقت اقوام متحدہ نےحکومتوں اور دیگر امدادی اداروں سے60 کروڑ ڈالر کی اپیل کی تھی۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے بات کرتے ہوئے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نائب مندوب نے بتایا کہ افغانستان میں طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔ اس کے علاوہ 2018 میں خشک سالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ لہذٰا افغانستان کو اضافی امداد کی ضرورت ہے۔

ٹوبی لینزر رواں ہفتے اٹاوہ، نیویارک اور واشنگٹن کے دورے کرنے کے بعد رواں ہفتے برسلز اور لندن میں موجود ہوں گے۔ جہاں وہ افغانستان کے لیے ہنگامی امداد پر زور دیں گے۔ ان کے بقول یہ امداد افغانستان کے لیے مختص کردہ ترقیاتی رقم کے علاوہ ہو گی۔ جس کا وعدہ 2016 میں برسلز میں ہونے والی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

مذکورہ ترقیاتی امداد رواں سال کے آخر میں ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد افغانستان کو مزید اربوں ڈالر کی امداد درکار ہو گی۔

اقوام متحدہ کے نائب خصوصی مندوب کا کہنا ہے کہ رواں سال افغانستان کے لیے ایک اور امدادی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس میں 2021 سے 2024 تک کے لیے امداد کی اپیل کی جائے گی۔

ٹوبی لینزر نے کہا کہ اگرچہ افغانستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی معاونت حاصل ہے تاہم ان کے بقول ملک میں جنگ بندی یا کم ازکم تشدد میں کمی کی وجہ سے کاشت کاری، آبی وسائل اور تعلیم پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ‘افغانستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سے منسلک لعل گل لعل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری لڑائی کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں افراد ملک کے اندر ر بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

ان کے بقول افغانستان میں خشک سالی کی وجہ سے بھی غربت میں اضافہ ہوا۔

لعل گل کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے 73 کروڑ ڈالر کی ہنگامی رقم کی اپیل خوش آئند ہے۔ لیکن یہ رقم ناکافی ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں مستقل جنگ بندی ہوتی ہے تو اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ بلکہ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے والے افراد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہو کر ملکی معیشت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔

افغانستان کی حکومت کو کئی طرح کے چیلنج درپیش ہیں اور اسے ہر سال لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقعوں کی ضرورت ہے۔

نیٹو کے لیے امریکہ کی سفیر کے بیلی ہچیسن نے پیر کو برسلز میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر سے ملاقات کی۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو اتحاد افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی فوجی اور سفارتی کوششوں کے عزم پر قائم ہیں۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد ہمارے لیے خطر ہ نا بن سکیں۔

زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے نمائندوں سے بات چیت کے بعد برسلز میں میں امریکی حکام سے ملاقات کی ہے۔

تاہم اپنی ٹوئٹ میں امریکی سفارت کار نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی پیش رفت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

لیکن اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے طالبان پر تشدد کی کارروائیاں مستقل طور پر روکنے کے لیے زور دیا جارہا ہے۔ طالبان نے بھی محدود اور مشروط جنگ بندی کی پیش کش کر رکھی ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 

سرینگر —  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *