Skip to main contentSkip to footer

(ویب ڈیسک) اداکار اجے دیوگن کے بنگلے پر بی ایم سی کی کارروائی کے دوران ” بلا اجازت تعمیر”  کو  گرا دیا گیا۔ 

 سپر ہیرو اپنے گھر میں اس توڑ پھوڑ سے سخت پریشان ہو گئے لیکن وہ کچھ بولے نہیں کیونکہ وہ خود اس بنگلے میں نہیں رہتے بلکہ اسے ایک بیوٹی سیلون کو کرائے پر دے رکھا ہے۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اجے دیوگن کو بمبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 354 اے کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تعمیراتی کام روکنے اور ضروری دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن  آج نیوز ہیڈ لائنز  میں ہیں۔ بمبئی کے پوش علاقہ جوہو میں واقع ان کے بنگلے پر بی ایم سی نے انہدامی کارروائی انجام دی ہے۔بمبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے اجے دیوگن کے اس بنگلے میں بلا اجازت کی جا رہی  “غیر قانونی تعمیر”ے خلاف معمول سے کہیں زیادہ سخت قدم اٹھاتے ہوئے انہدامی کارروائی کی ہے۔ دراصل میونسپل کارپوریشن نے بنگلے کے کچھ حصوں کو منہدم کر دیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 354 اے کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تعمیراتی کام روکنے اور ضروری دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

اب بی ایم سی کے اہلکار  کہہ رہے ہیں کہ نوٹس کے باوجود تعمیراتی کام جاری رہا، جس کے بعد میونسپل کارپوریشن نے تعمیر کے کچھ حصوں کو منہدم کر دیا۔
 
اجے دیوگن کا یہ بنگلہ جوہو کی ’کپول کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 7802  مربع فٹ ہے۔ دیوگن خاندان نے اگست 2026 میں یہ بنگلہ ’فلورین ہیوریل سیلون پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو 5 سال کے لیے 10.61 کروڑ روپے کے لیز پر دیا تھا۔ اس کا ابتدائی کرایہ 16 لاکھ روپے ماہانہ طے کیا گیا تھا۔ سیلون اور تجارتی استعمال کے لیے بنگلے کے اندر اجازت کے بغیر تعمیراتی کام کیا جا رہا تھا۔

بی ایم سی کے بلڈنگ پروپوزل ڈپارٹمنٹ سے ضروری منظوری بھی نہیں لی گئی تھی۔ گھر کے اندر  اندرونی دیواروں، کھڑکیوں اور دیگر حصوں میں تبدیلیوں کا کام  بمبئی میونسپل کارپوریشن کے لئے یا کسی بھی شہری کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کر رہا تھا۔ اس سے کسی حیوان اور پرندے کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔  لیکن بی ایم سی کے افسروں نے ہٹ دھرمی کی اور  سیلون یا اس جگہ پر اندرونی کام کرنے کے لیے بھی کوئی اجازت نہیں دی گئی ۔ دو روز قبل اسے منہدم کرنے کی کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : جی پی ٹی کے تحقیقی ماڈل نے رقم کی ضرورت پوری کرنے کے لئے رقم کا خود “بندوبست” کر ڈالا 
دراصل جوہو میں واقع بنگلے کے مالک یا وہاں رہنے والوں کو فوری طور پر کام روکنے اور 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ اتھارٹی سے ضروری منظوری کے دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ بغیر اجازت تعمیراتی کام سیپوریكس بلاک سے متعلق کاموں کے تحت کیا جا رہا ہے۔ دیوگن خاندان نے فلورین ہیوریل سیلون پرائیویٹ لمیٹڈ کو بنگلہ لیز پر دینے کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) طلب کیا تھا۔ وہیں سوسائٹی سے وابستہ اس وقت کے مجاز افسر کے 22 جولائی 2026 کے ایک خط میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ وینا ویریندر دیوگن اور اجے دیوگن اس جائیداد کے رکن اور قانونی مالک تھے، اور سوسائٹی کو اسے لیز پر دیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:     افغانستان سے 2018 کے بعد سے دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے، ایمرجنسی مجبوراً لگانا پڑی، شہباز شریف  




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Fill out this field
Fill out this field
Please enter a valid email address.
You need to agree with the terms to proceed