سٹیزن پورٹل کی 2 سالہ کارکردگی، تعلیم کے میدان میں کیسے معاون ثابت ہوا اور اس شکایتی نظام کو مزید فعال بنانے کیلئے کیا احکامات جاری کردیئے گئے؟ مکمل تفصیلات

سٹیزن پورٹل کی 2 سالہ کارکردگی، تعلیم کے میدان میں کیسے معاون ثابت ہوا اور اس …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت پاکستان نے تعلیمی میدان میں طلباءکی شکایات اور اقدامات کے بارے میں سیٹیزن پورٹل کی دوسالہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے اورشفافیت و انصاف کی جلد ازجلد فراہمی کے لیے اس میں ہونیوالی مزید تبدیلیاں اور شہریوں کیلئے متعارف کروائی گئی مزید سہولیات سے بھی پردہ اٹھادیا ، اکتوبر 2018ءمیں وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی سرکاری ادارے کیخلاف شکایت کیلئے سٹیزن پورٹل لانچ کیا تھا تاکہ شفافیت برقرار رہے اور شہریوں کیلئے شکایت کرنا آسان ہو، اب تک اس پورٹل پر تیس لاکھ سے زائد لوگ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔

موصول شدہ 26 لاکھ درخواستوں میں سے 24 لاکھ کا ازالہ کیا گیا اور 591000 افراد نے کارروائی کے اطمینان بخش ہونے کی تصدیق کی۔ملک بھر میں آٹھ ہزارآٹھ سو سے زائد دفاتر کو پابند کیاگیا کہ وہاں سے بھی شہری اسی یا کسی بھی دوسرے ادارے کیخلاف شکایت رجسٹرکرواسکتے ہیں، اس کے علاوہ ایپ’ سٹیزن پورٹل‘ کے بغیر ہی ویب سائٹ”citizenportal.gov.pk“ پر بھی شکایت کرنے کی سہولت فراہم کردی گئی، یہ سہولت ان لوگوں کے لیے متعارف کروائی گئی جو انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں لیکن اینڈرائیڈ موبائل فون تک رسائی نہیں جبکہ ہیلپ لائن پر بھی چوبیس گھنٹے کال کی جاسکتی ہے ۔

وزیراعظم نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ متعلقہ محکمے غیر مطمئن شہریوں کی شکایات کو دوبارہ کھولیں اور ازسر نواس کا جائزہ لیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہیلپ لائن کی سہولت چھ علاقائی زبانوں میں موجود ہے جن میں اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، سندھی اورانگریزی شامل ہیں۔ 

سٹیزن پورٹل پر نوشہرہ یونیورسٹی کے طلباءنے شکایت کی تھی کہ کانووکیشن فیس کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ و طالبات کو ریلیف فراہم کیا اور کانووکیشن فیس معاف کردی گئی ، یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ کانووکیشن فیس طلبہ و طالبات سے وصول نہیں کی جائے گی۔

اسی طرح مالاکنڈ یونیورسٹی میں معذور طلبہ و طالبات کے لیے ریمپ اور لفٹ کی سہولت نہ ہونے پر تکلیف کا سامنا ہونے کی شکایت موصول ہوئی تو انتظامیہ کی جانب سے معذور طلبا کے لیے خصوصی لفٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 

پاکستان سیٹیزن پورٹل خواتین کی آواز بھی بنا اور خاتون شہری کی شکایت پر انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے نوشہرہ یونیورسٹی میں خواتین کے لیے پی ایچ ڈی کوٹہ بڑھا دیا۔

IBA سکھر کا OGDCL کے ساتھ سکالر شپ پلان میں تھرپارکر کے طلبہ و طالبات کو سکالر شپ نہ فراہم کرنے کی شکایت موصول ہوئی تو IBA سکھر نے فی الفور ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تھرپارکر فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے تھرپارکر کے طالبات کو سکالر شپ فراہم کرنا شروع کردی۔

کورونا لاک ڈاﺅن کی وجہ سے UET ٹیکسلا میں خالی آسامیوں کے لیے درخواست دینے میں تاخیر ہوئی اور اس کی نشاندہی سٹیزن پورٹل پر ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فارم جمع کرانے کی تاریخ بڑھا دی گئی۔

ہمدرد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے Transcript کے اجراءمیں تاخیر کی شکایت سامنے آئی تو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فوری Transcript مہیا کی گئی اورنیا میکانزم متعارف کروایا گیا، آئندہ تین دن کے اندر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے Transcript مہیا کی جائے گی۔

GIFTیونیورسٹی گوجرانوالہ کے طلبہ کی نشاندہی پرطلبہ کو آسان اقساط پر رقم ادا کرنے کا پروگرام تشکیل، اس کے ساتھ ساتھ “GIFT Interest Free Loan Program” کے نام سے طلبہ کے لیے بغیر سود قرضہ پروگرام کی سہولت فراہم کی گئی ۔ 

یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں لیب اور تکنیکی سامان کی کمی کا طلبہ نے معاملہ پاکستان سیٹیزن پورٹل پر اٹھایا، 68 دن میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نئے کمپیوٹر لیب کا آغاز کردیا گیا اور ایک کروڑ 80 لاکھ کے کمپیوٹرز کی خریداری عمل میں آئی ۔ 

خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے طلبہ و طالبات کو فیس اور سکالر شپ کی ادائیگی میں مشکلات کا معاملہ سامنے آیا تو پانچ دن کے اندر والدین کو فیس بنا کسی اضافی چارجز کے آسان اقساط پر ادائیگی کی سہولت مہیا کردی گئی۔

اسی طرح خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے طلبہ نے یونیورسٹی میں آن لائن کورسز کی عدم موجودگی کی شکایت کی تو تئیس دن کے اندر یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک آرکائیو تشکیل دی جہاں 600سے زائد کورسز اور 7300سے زائد ویڈیو ز موجود ہیں۔

عوام کی رہنمائی اور سہولت کے لیے وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر پاکستان سیٹیزن پورٹل ہیلپ لائن کا آغاز کردیا گیا ہے، 0519000111 ہیلپ لائن 24 گھنٹے فعال رہے گی۔

وزیراعظم آفس نے سرکاری افسران کو بزرگ شہریوں، بیوہ خواتین، معزور افراد کی سہولت اور ملک کا سب سے بڑا شکایتی نظام مزید فعال بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ۔مختلف علاقوں میں موبائل، انٹرنیٹ سہولت نہ ہونے کے باعث فیصلہ کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں 2172 شکایتی مراکز، پنجاب 2855،سندھ 1134، بلوچستان 421 ، وفاقی وزارتوں اور اسلام آباد انتظامیہ 1481، آزاد جموں کشمیر 29، گلگت بلتستان میں سات مراکز مخصوص کیے گئے ۔ شکایتی ڈیش بورڈ میں پولیس، سول انتظامیہ، کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر سرکاری ادارے شامل ہیں۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹسسائنس اور ٹیکنالوجی




Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کورونا کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ تاریخ رقم ہوگئی

کورونا کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ، تاریخ رقم ہوگئی اسلام آباد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *