لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے پر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ، ایک دہشت گرد ہلاک

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر لاہور کی پولیس کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) کے تھانے پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا کر مبینہ حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح لاہور کے علاقے برکی روڈ پر پیش آیا جب مبینہ خود کش حملہ آور نے سی ٹی ڈی تھانے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور مارا گیا۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق تھانے کی ڈیوٹی پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد مارا گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سے ایک عدد پستول، خود کش جیکٹ اور دو دستی بم برآمد کر لیے گئے ہیں۔

ترجمان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کا دفتر ہی دہشت گرد کا ہدف تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ محکمہ کالعدم تنظیموں اور دہشت گروں کے خلاف کارروائیاں کر کے اُنہیں گرفتار کرتا رہتا ہے اور یہ واقعہ بظاہر انہی کارروائیوں کا ردعمل لگتا ہے۔

یاد رہے اِسی قسم کا واقعہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں بھی پیش آیا تھا۔ جب ایک دہشت گرد نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق 18 نومبر کو پیش آنے والے اس واقعے میں حساس ادارے کے دفتر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ جس سے حساس ادارے کا اہلکار زخمی ہو گیا تھا جب کہ جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہو گیا تھا۔

سابق انسپکٹر جنرل پولیس افضل علی شگری سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا پہلا نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آئی جی نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں ایک ڈوزیئر بھارت کے حوالے کیا ہے۔ لہذٰا ان واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اُن کے بقول بھارت ایسی تنظیموں کی فنڈنگ کرتا ہے جو پاکستان مخالف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں حکومت پاکستان نے ایک ڈوزیئر بھارتی حکام کے حوالے کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بھارت افغان سرزمین استعمال کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کا الزام تھا کہ بھارت ایسے گروہوں اور تنظیموں کی فنڈنگ کرتا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

لیکن بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے ان الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

افضل شگری کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے سلیپنگ سیل اب بھی موجود ہیں۔ اُن کے بقول فورسز کے خلاف کارروائیوں میں اضافے پر تو بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ ملک دُشمن عناصر متحرک ہیں۔

افضل علی شگری کہتے ہیں کہ افغانستان میں بھی بڑی تعداد میں داعش کے جنگجو موجود ہیں اور وہ بھی پاکستان کے خلاف ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اُن کے بقول افغانستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت کی بہت سے علاقوں میں ریاستی رِٹ بہت کمزور ہے۔

سابق آئی جی کی رائے میں جب بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں تو جواباً وہ بھی حرکت میں آتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ افضل علی شِگری کے مطابق یہ جرائم پیشہ افراد ہیں یہ اکثر چھپ کر وار کرتے ہیں۔

دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی صبح صوبائی دارالحکومت لاہور کے برکی روڈ پر سی ٹی ڈی تھانے کے قریب ایک پولیس بس کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ واقعے میں پولیس کو جانی نقصان بھی اُٹھانا پڑا ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کرونانےنیٹ فلکس اورایمیزون کارُخ ٹولی،مولی اورکولی ووڈکی جانب موڑدیا

تصویر: ایمیزون کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد سے معروف اسٹریمنگ ویب سائٹس ایمیزون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *