ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں کورونا وائرس کا آئی وی آئی جی طریقہ علاج

ڈاو یونیورسٹی اوجھا اسپتال میں  کورونا کا آئی وی آئی جی طریقہ علاج

ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا اسپتال میں کورونا کے آئی وی آئی جی طریقہ علاج کے ٹرائل میں شدید بیمار مریض صرف پانچ روز میں صحت یاب ہو کر گھر منتقل ہوچکے ہیں۔

ماہرین ایک جانب حکومت کے تعاون اور اجازت کے منتظر ہیں تو دوسری جانب کورونا سے صحت یاب ہونے والوں سے اپنا پلازمہ عطیہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز میں ڈاکٹر شوکت علی اور ان کی ٹیم نے اپنی محنت سے کورونا کا تیز ترین علاج دریافت کرلیا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں ڈاکٹر شوکت علی نے بتایا کہ آئی وی آئی جی انجیکشن ایک سے زائد افراد کے پلازمہ کو لیکر بنائی گئی ہے جو آئی سی یو میں زیرِ علاج 60 فیصد مریضوں جبکہ آکسیجن والے ایچ ڈی یو کے مریضوں میں 100 فیصد کارآمد ثابت ہوئی ہے۔

ڈاکٹر شوکت کے مطابق شدید بیمار مریض صرف پانچ روز میں صحت یاب ہوکر گھر منتقل ہوا ہے۔

ڈاکٹر شوکت علی اور ان کی ٹیم ایک طرف حکومت کے تعاون اور اس طریقہ علاج کی حکومتی اجازت کی منتظر ہے تو دوسری جانب کورونا سے صحت یاب ہونے والوں سے اپنا پلازمہ عطیہ کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر حکومتی اجازت مل جائے تو تین ہفتوں کی قلیل مدت میں آئی وی آئی جی انجیکشن کی وسیع پیمانے پر تیاری کی جاسکتی ہے۔




Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *