افغانستان میں فورسز کے ہاتھوں غیر مسلح افراد کی ہلاکت کی رپورٹ تکلیف دہ ہے: آسٹریلوی وزیرِ اعظم


آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں آسٹریلیا کی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں 39 غیر مسلح قیدیوں اور عام شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پریشان کن اور تکلیف دہ ہے۔

آسٹریلیا کی اسپیشل فورسز سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جمعرات کو سامنے آئی تھی۔ اس رپورٹ میں اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کے افغانستان میں 2005 سے 2016 کے درمیان ضابطۂ کار کی خلاف ورزی سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اسپیشل فورسز سے متعلق رپورٹ میں شامل ہے کہ سینئر کمانڈوز نے جونیئر اہلکاروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ غیر مسلح افراد کو قتل کریں۔

اس رپورٹ میں فورسز کے موجودہ اور سابقہ 19 اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے حوالے سے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوف ناک، شدید پریشان کن اور تکلیف دہ رپورٹ ہے۔

واضح رہے کہ اسپیشل فورسز سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے پہلی بار اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔

اسکاٹ موریسن کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک رپورٹ پر آسٹریلیا کے اندرونی معاملات کی بات ہے تو وہ اس سے نمٹ لیں گے اور اسے ملکی قانون، نظام اور انصاف کے طریقہ کار کے تحت دیکھا جائے گا۔

آسٹریلیا عمومی طور پر اپنی فورسز کی تاریخ کا ذکر فخر سے کرتا ہے۔ البتہ حالیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد انتہائی افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

دو روز قبل فوج کے موجودہ اور سابقہ 19 اہلکاروں کے خلاف افغانستان میں 39 افراد کے قتل کے مقدمات چلانے کی سفارش سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عام کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق قتل کیے جانے والے یہ افغان شہری یا تو غیر مسلح تھے یا ان کو حراست میں لیا جا چکا تھا۔

افغانستان میں موجود اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کی 2005 سے 2016 کے درمیان کارروائیوں سے متعلق تحقیقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے جنرل انگوس جان کیمبل کا کہنا تھا کہ ایسی مصدقہ معلومات موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں اسپیشل فورسز کے اہلکاروں نے 23 مختلف واقعات میں غیر قانونی طور پر 39 افراد کو قتل کیا ہے۔

جنرل انگوس جان کیمبل کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام ہلاکتیں جنگ کے میدان سے باہر ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے نتائج فوج کے ضابطۂ کار اور پیشہ ورانہ اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی شخص قتل کر دیا جاتا تھا تو اس ہلاکت کا جواز دینے کے لیے لڑائی کا ایک جعلی سین بنایا جاتا تھا اور اس میں غیر ملکی ہتھیار یا دیگر آلات استعمال کیے جاتے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ معلومات فوری طور پر اس لیے سامنے نہیں آ سکی تھیں کیوںکہ گشت کے دوران معلومات خفیہ رکھنے کی روایت ہے۔ جب کہ یہ معلومات ایک ساتھ سامنے نہیں آتیں بلکہ مختلف ٹکڑوں میں جمع کی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ اگر قانونی کارروائی میں کامیابی نہیں بھی ملتی۔ تب بھی افغانستان میں متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جانی چاہیے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے شواہد نہیں ملے: امریکی اٹارنی جنرل

ویب ڈیسک —  امریکہ کے اٹارنی جنرل ولیم بر نے کہا ہے کہ تین نومبر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *