گئو تحفظ ایکٹ پر الہ آباد ہائی کورٹ کا تلخ تبصرہ۔ مسلسل ہو رہا ہے اس کا غلط استعمال– Urdu News

یہ باتیں جسٹس سدھارتھ نے گئو تحفظ ایکٹ کے تحت جیل میں قید رحیم الدین کی ضمانت عرضی پر سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں کہیں۔ عدالت نے رحیم الدین کی عرضی منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ضمانت عرضی میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی آر میں عرضی گذار کے خلاف کوئی خاص الزام نہیں ہے اور نہ ہی وہ موقع واردات پر پکڑا گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated:
    Oct 27, 2020 09:52 AM IST

یوپی: گئو تحفظ ایکٹ پر الہ آباد ہائی کورٹ کا تلخ تبصرہ۔ مسلسل ہو رہا ہے اس کا غلط استعمال

گئو تحفظ ایکٹ پر الہ آباد ہائی کورٹ کا تلخ تبصرہ

پریاگ راج۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست میں گئو تحفظ ایکٹ کے غلط استعمال اور آوارہ مویشیوں کی دیکھ بھال کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوپی میں بے گناہوں کے خلاف گئو تحفظ ایکٹ کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ جب بھی گوشت برآمد ہوتا ہے اس کی فورنسک لیب میں جانچ کرائے بغیر اسے گائے کا گوشت قرار دیا جاتا ہے اور بے قصور شخص کو اس الزام میں جیل بھیج دیا جاتا ہے جو شائد اس نے کیا نہیں ہے۔ کورٹ نے آوارہ مویشوں کی دیکھ بھال کی حالت پر کہا کہ ریاست میں گئو تحفظ ایکٹ کو صحیح جذبے کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ باتیں جسٹس سدھارتھ نے گئو تحفظ ایکٹ کے تحت جیل میں قید رحیم الدین کی ضمانت عرضی پر سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں کہیں۔ عدالت نے رحیم الدین کی عرضی منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ضمانت عرضی میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی آر میں عرضی گذار کے خلاف کوئی خاص الزام نہیں ہے اور نہ ہی وہ موقع واردات پر پکڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے برآمد گوشت کی حقیقت جاننے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی ہے کہ وہ گائے کا گوشت ہی ہے یا کسی دیگر مویشی کا ہے۔

آوارہ مویشیوں کو لے کر کیا یہ تبصرہ

عدالت نے کہا کہ زیادہ تر معاملوں میں جب گوشت پکڑا جاتا ہے تو اسے گائے کا گوشت قرار دیا جاتا ہے۔ اسے فورنسک لیب نہیں بھیجا تا اور ملزم کو اس جرم میں جیل بھیج دیا جاتا ہے جس میں سات سال تک کی سزا کی تجویز ہے ۔عدالت نے مزید کہا کہ اسی طرح سے جب گائیں برآمد کی جاتی ہیں تو کوئی ریکوری میمو تیار نہیں کی جاتی اور کسی کو نہیں پتہ ہوتا ہے کہ برآمدگی کے بعد اسے کہاں لے جایا جائے گا۔ وہ دودھ دینا بندکردیں تو مالک بھی یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ گئوشالہ والے بھی انہیں قبول نہیں کرتے۔ وہ فصلوں کو برباد کرتی ہیں اور سڑکوں پر حادثات کی وجوہات بنتی ہیں۔ ایسے مویشیوں کو گئوشالاؤں یا ان کے مالکوں کے پاس ہی رکھنے کے لئے کوئی راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

مدھیہ پردیش میں سیکس ریکٹ کا پردہ فاش ، چار لڑکیوں سمیت 9 گرفتار، قابل اعتراض اشیا برآمد

پولیس ذرائع کے مطابق شہر کے الکنند نگر گلی نمبر 1 میں چل رہے جسم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *