Jahangir Tareen and Monnis Elahi Statements

چینی کے بحران پر جہانگیر ترین نے مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ 250 ارب کی سبسڈی نواز دور ميں ملی تھی، جب کہ مونس الہٰی نے ٹوئٹر پر لکھا ان کا رحیم یار خان شوگر مل انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔

چینی اور آٹے پر منظر عام پر آنے والی رپورٹس پر جہانگير ترين اور مونس الہٰی کا رد عمل بھی سامنے آگيا۔ ٹوئٹر پر جہانگير ترين نے لکھا کہ ان کی کمپنی نے 12.28 فيصد چينی برآمد کی، جب کہ مارکيٹ شيئر 20 فيصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی نے اپنی گنجائش سے کم چينی برآمد کی،3 ارب ميں سے 250 ارب کی سبسڈی نواز دور ميں دی گئی۔ مونس الہٰي بھی صفائیاں دینے میدان میں آگئے اور ٹوئٹر پر لکھا کہ ان کا رحیم یار خان شوگر مل انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔

مونس الہیٰ نے یہ بھی کہا کہ ان کا شيئر بالواسطہ شیئر ہے۔ رحیم یار خان شوگر مل کا برآمدات ميں حصہ صرف 3.14 فیصد ہے۔ امید ہے لوگ حقائق کو ذمہ داری سے پیش کریں گے۔

 


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کرونانےنیٹ فلکس اورایمیزون کارُخ ٹولی،مولی اورکولی ووڈکی جانب موڑدیا

تصویر: ایمیزون کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد سے معروف اسٹریمنگ ویب سائٹس ایمیزون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *