کیا پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں؟

کرونا وائرس سے نمٹنے کی مشترکہ حکمت عملی کے لیے پاکستان نے سفارتی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھارت کے علاوہ کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ لیکن اس موقع پر بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سرد مہری برقرار ہے۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا کو صحتِ عامہ کے بحران کا سامنا ہے۔ عالمی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان اور بھارت کے معاشی مستقبل پر ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحت عامہ اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک ایسا چیلنج ہے جس کے سماجی اور اقتصادی اثرات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ عالمی اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبا سے نمٹنا شاید تنہا کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی سفارتی سطح پر کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ یہ وبا پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا بحران ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ ہفتوں میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ ان میں ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، سارک ممالک، برطانیہ اور کئی یورپی ملک بھی شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے بات کی، لیکن تعلقات میں سرد مہری کے باعث اہم ہمسائیہ ملک بھارت کے وزیر خارجہ سے اُن کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ سال فروری سے ہی کشیدہ ہیں۔

یادر ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سارک ممالک کے درمیان کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک فنڈ کا ابھی اعلان کیا تھا لیکن اس معاملے پر مزید کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی.

بھارتی وزیر اعظم کی تجویز پر سارک ممالک کے سربراہان نے ویڈیو کانفرنس کی، لیکن پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس میں شرکت کی۔

تجزیہ کار ظفر جسپال کے بقول پاکستان کے سرکاری حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا کے علاقائی ممالک کی تعاون کی تنطیم سارک کے پلییٹ فارم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان اور بھارت سارک ممالک کی تنظیم کے رکن بھی ہیں۔

پاکستان اور بھارت سارک ممالک کی تنظیم کے رکن بھی ہیں۔

اُن کے بقول پاکستان کا موقف ہے کہ سارک ممالک کے درمیان کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے تعاون نئی دہلی کے بجائے سارک کے پلیٹ فارم سے ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ کہ پاکستان اور بھارت کے اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال پر بھی آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریس سے بھی فون پر رابطہ کیا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ظفر جسپال کے خیال میں ان سفارتی رابطوں کے ذریعے وزیر خارجہ قریشی دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر لڑنا ہے۔

ان کے بقول پاکستان کے وزیر خارجہ کے حالیہ ہفتوں میں سفارتی رابطوں کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ اس وبا سے دنیا کو بڑے چیلنج کا سامنا ہے جب کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے کہ جس طرح دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں کی گئیں، اسی طرح اس وائرس کے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول پاکستان کے وزیر خارجہ بھی دنیا کے مختلف ممالک کے ہم منصب وزرائے خارجہ سے سفارتی رابطوں کے ذریعے یہی پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہر ملک اپنے طور پر اس وبا سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔

لیکن ہما بقائی کے بقول کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی اور سفارتی رابطے ضروری ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں 11 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں 11 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ظفر جسپال کہتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی ایک غیر معمولی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ان کے بقول پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچوان بڑا ملک ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اس وائرس کے باعث پاکستانی پھنس کر رہ گئے ہیں۔ لہذٰا وزیر خارجہ اُنہیں واپس لینے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعطم عمران خان یہ تجویز دیے چکے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت دی جائے۔

تجزیہ کار ظفر جسپال کہتے ہیں کہ پاکستان اس وقت کرونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت عامہ کے مسائل اور اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو بھی وسائل کی ضرورت ہے۔

ظفر جسپال کہتے ہیں کہ ان رابطوں کے ذریعے اگر دیگر ممالک پاکستان کو امداد نہیں بھی دیتے، لیکن پھر بھی ان سفارتی رابطوں سے تجاویز کا تبادلہ ہوتا ہے۔

تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک اور امریکہ کے بعض اندرونی حلقے بھی کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ایران پر عائد پابندیاں کو نرم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تاکہ ایران صحتِ عامہ کے معاملات کی طرف توجہ دے سکے۔

تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے کہ دنیا اب ایک دوسرے کے قریب آرہی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ چاہے افغانستان کا معاملہ ہو یا مشرقِ وسطیٰ کا پاکستان ہر سطح پر تعاون کے لیے تیار ہے۔

ظفر جسپال کے بقول اس وبا کے ختم ہونے پر سیاسی اختلافات تو شاید کم نہ ہوں لیکن انسانیت، صحتِ عامہ، ماحولیات کے معاملات پر عالمی سطح پر اتفاق رائے سامنے آ سکتا ہے۔

ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس وبا سے عسکری تنازعات کی طرف دنیا کی توجہ کم ہو گی، ہر ملک کو اندرونی چیلنج درپیش ہو گا۔

لیکن ان کے بقول پاکستان اور بھارت کی ایک بدقسمتی ہے کہ عالمی وبا سے لڑنے کی بجائے لائن آف کنڑول پر کشیدگی جاری ہے۔ ان کے بقول اس وقت تنازعات کو بالائے طاق رکھ کر وبائی مرض پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *