دو ہفتوں کے لیے کیا خوراک خریدنی چاہیے؟


کرونا وائرس کی وجہ سے شہر شہر لاک ڈاؤن ہو رہے ہیں اور ‘پینک شاپنگ’، یعنی گھبراہٹ میں کی جانے والی خریداری کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ صرف پاکستان نہیں، امریکہ اور دوسرے ملکوں میں بھی یہی حال ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اشیا گھر میں بھرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک تو گروسری اسٹورز لاک ڈاؤن میں بھی کھلے ہیں۔ دوسرے یہ نقصان ہو سکتا ہے کہ آپ کے زیادہ سامان خریدنے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو ضروری اشیا نہ مل سکیں۔

کسی شخص کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد، ڈاکٹر زیادہ سے زیادہ 14 دن قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس لیے، ان کا مشورہ ہے کہ دو ہفتے سے زیادہ کا راشن اکٹھا نہ کیا جائے۔

پولینڈ کی ایک ماہر خوراک ڈاکٹر نے ایسا کیلکولیٹر بنایا ہے جو بتاتا ہے کہ کسی شخص یا خاندان کو 14 دن کے لیے کس قدر اشیائے خوراک کی خریداری کرنی چاہیے۔ یوآنا میکالووسکا نے اپنا یہ کیلکولیٹر انٹرنیٹ پر ڈال دیا ہے، تاکہ سب لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔

‘اومنی کیلکولیٹر ڈوٹ کوم’ پر پہلے درج کرنا پڑتا ہے کہ گھر میں کتنے مرد، خواتین اور بچے ہیں۔ 10 سال سے زیادہ بڑے بچے کو بالغ شخص سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ کیلکولیٹر بتاتا ہے کہ آپ کو دو ہفتوں کے لیے کتنے اناج، کتنی سبزیوں اور کتنے پھلوں کی ضرورت ہے۔

اس کیلکولیٹر کے مطابق، میاں بیوی اور دو بچوں کے خاندان کو دو ہفتوں کے لیے 11٫58 پونڈ سیب، 1٫7 پونڈ پیاز، 4٫7 پونڈ گاجریں، 1٫2 پونڈ آلو، 56 انڈے، 5 بڑی ڈبل روٹیاں، 250 گرام مکھن، 9 لٹر دودھ، 3 کلو گوشت، ایک کلو جو، پاستا کے 5 پیکٹ، 4 کلو چاول، ایک کلو مسور، 800 گرام بادام، آدھا کلو شہد، کوکنگ آئل اور مایونیز کی ایک ایک بوتل، فروزن سبزی کے 11 ٹن، ٹماٹر کے 12 ٹن، مچھلی کے 8 ٹن، چنے کے 9 ٹن اور سوئٹ کورن کے 3 ٹن کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کیلکولیٹر میں عام افراد کی خوراک کے مطابق، اشیا بتائی جاتی ہیں۔ کسی کو ڈاکٹر نے میٹھا کھانے یا خاص اشیا سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے تو اسے خود اس کا خیال رکھنا ہوگا۔ لیکن، بہرحال اس کی ماہر نے متوازن خوراک کی ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے۔

ماہرین صحت عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ دو ہفتوں میں ایک ہی بار گروسری کے لیے گھر سے باہر نکلیں اور ایسے اوقات کا انتخاب کریں جب اسٹورز میں کم لوگ آتے ہیں۔ صبح جلدی یا شام کو دیر سے خریداری کرنا بہتر ہے۔

گروسری کے لیے جانے سے پہلے اور آنے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھونے اور خریداری کے دوران دوسروں سے مناسب فاصلہ رکھنے سے وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق، خوراک یا اس کی پیکجنگ سے کرونا وائرس پھیلنے کے شواہد نہیں ملے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *