کورونا وائرس بحران کے درمیان پاکستان نے الاپا کشمیر کا راگ ، ہندوستان کے اس قدم کو بتایا غلط

پاکستان نے جمعرات کو ہندوستان پر جموں وکشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو غیر قانونی طور سے بدلنے کا الزام لگایا ہے ۔ ساتھ ہی نئے ڈومیسائل قانون کو بین الاقوامی قانون کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔

کورونا وائرس بحران کے درمیان پاکستان نے الاپا کشمیر کا راگ ، ہندوستان کے اس قدم کو بتایا غلط

کورونا وائرس بحران کے درمیان پاکستان نے الاپا کشمیر کا راگ ، ہندوستان کے اس قدم کو بتایا غلط

ایک طرف جہاں پوری دنیا کورونا وائرس وبا سے پریشان ہے ، وہیں پاکستان اس بحران کے دوران بھی کشمیر کا راگ الاپنے سے باز نہیں آرہا ہے ۔ پاکستان نے جمعرات کو ہندوستان پر جموں وکشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو غیر قانونی طور سے بدلنے کا الزام لگایا ہے ۔ ساتھ ہی نئے ڈومیسائل قانون کو بین الاقوامی قانون کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ ہندوستان کی حکومت نے بدھ کو نئے ڈومیسائل قانون کو جاری کیا تھا ، جس کے تحت اس میں ان کو بھی بنیادی شہری کا درجہ ملے گا جو مرکز کے زیر انتظام خطہ میں پندرہ سال سے رہے ہیں ۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ غیر کشمیریوں کو اس علاقہ میں بسانے کیلئے ہندوستان کا ایک اور غیر قانونی قدم ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ چوتھے جنیوا کنوینشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے ۔ وزارت داخلہ نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے اس ہندوستانی قدم کا فوری طور پر نوٹس لینے کی اپیل کی اور ہندوستان کو اس خطہ میں آبادیاتی بدلاو سے روکنے کی مانگ کی ۔

قابل ذکر ہے کہ نئے قانون کے مطابق جموں و کشمیر میں ۱۵ سال تک رہنے والا یا سات سال تک پڑھائی کرنے والا اور کسی تعلیمی ادارہ میں دسویں اور بارہویں کلاس کا امتحان دینے والا کوئی بھی شخص بنیادی شہری ہے ۔ اس سے پہلے بھی پاکستان نے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے فیصلہ کو لے کر بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کو گھیرنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔

عمر عبد اللہ نے بھی کی مخالفتنیشنل کانفرنس نے نئے قانون کو کھوکھلا بتایا ہے جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) نے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی پریشانیاں بڑھ جائیں گی ۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے سلسلے وار ٹویٹ میں کہا کہ اس کے وقت پر بات کریں ۔ جب ہماری سبھی کوششیں اور پوری توجہ کووڈ ۱۹ وائرس کو پھیلنے سے روکنے پر ہونی چاہئے ، تب حکومت جموں و کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون لے کر آئی ہے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی تحفظ قانون سے نہیں مل رہا ہے ، جس کا وعدہ کیا گیا تھا ، تب یہ پہلے سے لگی چوٹ کو مزید سنگین کردیتا ہے ۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *