یوراج اور ہربھجن کو شاہد آفریدی کی حمایت مہنگی پڑ گئی


بھارتی کرکٹرز یوراج سنگھ اور ہر بھجن سنگھ کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی حمایت مہنگی پڑ گئی ہے۔ اُنہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید نتقید کا سامنا ہے اور اُنہیں آڑے ہاتھوں لینے والوں کا ایک طوفان سا امڈ آیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی ‘ کے مطابق یوراج سنگھ اور ہر بھجن سنگھ نے حال ہی میں پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ‘شاہد آفریدی فاؤنڈیشن’ کی حمایت کے ساتھ ساتھ چندہ دینے کی اپیل کی تھی۔

ہربھجن سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ہمیں شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جو بہت اچھا کام کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی ایک فلاحی تنظیم ‘شاہد آفریدی فاؤنڈیشن’ کے بانی ہیں۔

ہربھجن سنگھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں عوام اور دیگر کرکٹرز سے شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی مدد کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔

دوسری جانب یوراج سنگھ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ یہ ایک دوسرے کی آزمائش اور مدد کرنے کا وقت ہے۔

اس پر شاہد آفریدی نے دونوں کرکٹرز کا شکریہ ادا کیا لیکن بھارتی ٹوئٹر صارفین نے اپنے کرکٹرز کی اس حمایت پر شدید ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ ہربھجن اور یوراج میرے دل میں جو آپ دونوں کے لیے احترام تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے۔

یوراج نے اس ٹوئٹ کے جواب میں لکھا کہ ضرورت مندوں کی حمایت کا پیغام دوسروں پر گراں کیوں گزرنے لگتا ہے۔ میں نے اس پیغام کے ذریعے یہ کوشش کی تھی کہ دونوں ممالک کی عوام کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے، اس لیے ان کی مدد کی جائے۔

یوراج سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا ارادہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ میں ایک ہندوستانی ہوں اور ہمیشہ انسانیت کی مدد کے لیے کھڑا رہوں گا۔

یوراج سنگھ نے اپنی ‘یو وی کین فاؤنڈیشن کے ذریعے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فنڈز بھی اکھٹا کیا ہے۔

کرونا وائرس کی وبا سے پھیلی تباہی کے باوجود بھارتی ٹوئٹر صارفین دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بالائے طاق رکھنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

کچھ صارفین کا مؤقف تو اس قدر سخت ہے کہ ہربجھن کی حمایت پر انہوں نے پوری سکھ برادری کو ‘غدار’ قرار دیا ہے۔

ادھر شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر ہربھجن اور یوراج کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس سے اب تک 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 1600 تک جاپہنچی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان 2013 کے بعد سے کوئی کرکٹ سیریز نہیں ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے موضوع پر سالوں سے کشیدگی چلی آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دو مرتبہ جنگ بھی ہو چکی ہے۔

بھارت اور پاکستان کرکٹ کے میدان میں بھی روایتی حریف ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان جب بھی میچ ہوتا ہے تو گراؤنڈ کے اندر اور ٹی وی پر ایک جنگ کا سماں ہوتا ہے۔

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

ون ڈے رینکنگ، بابر ٹاپ 3 بلے بازوں میں شامل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جاری کردہ نئی ون ڈے رینکنگ میں بلے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *