صدر ٹرمپ کا چین میں کرونا متاثرین کے اعداد و شمار پر شک کا اظہار

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس سے چین میں ہونے والی ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار پر شک کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک خفیہ رپورٹ وائٹ ہاؤس کو ارسال کی گئی تھی جس میں امریکی ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ کرونا وائرس سے چین میں ہلاکتوں اور متاثرہ افراد سے متعلق اعداد و شمار جعلی ہیں۔

بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے چین کے اعداد و شمار سے متعلق کہا کہ “ہم کس طرح تسلیم کر لیں کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار درست ہیں۔”

صدر ٹرمپ اس بات پر بھی زور دیتے رہے کہ ان کے چین کے ساتھ بہت اچھے اور چینی ہم منصب شی جن پنگ اُن کے بہت قریب ہیں۔

کرونا وائرس پر صدر ٹرمپ کی بنائی گئی ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر ڈیبورا برکس نے بھی منگل کو اس شبہہ کا اظہار کیا تھا کہ میڈیکل کمیونٹی نے جائزہ لیا ہے کہ چین میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ متوقع اندازوں سے حیران کن طور پر کافی کم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ شاید ہمارے پاس اعداد و شمار کی درست معلومات موجود نہیں ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور ان کی کرونا ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر عالمی وبا پر بریفنگ دیتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور ان کی کرونا ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر عالمی وبا پر بریفنگ دیتی ہے۔

کانگریس میں ری پبلکن جماعت کے ارکان بھی یہ تاثر پیش کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس سے چین میں ہونے والی ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔

ری پبلکن ارکان اُس خفیہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیتے رہے ہیں جو حال ہی میں وائٹ ہاؤس کو موصول ہوئی ہے۔

ری پبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ چین نے 2019 کے آخر میں ووہان سے جنم لینے والے وائرس اور اس سے ہونے والی تباہی سے متعلق عالمی برادری کو گمراہ کیا ہے۔

جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں اب تک کرونا وائرس کے 82 ہزار 361 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اس وائرس نے 3316 افراد کی جان لی ہے۔

کرونا وائرس سے ہونے والے انسانی جانوں کا تقابلی جائزہ لیں تو چین کے مقابلے میں امریکہ میں زیادہ نقصان ہوا ہے۔

امریکہ میں اب تک اس وبا سے 4542 اموات ہو چکی ہیں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد دو لاکھ چھ ہزار 207 ہے، جو دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ری پبلکن ارکان کے خدشات

وائٹ ہاؤس کو فراہم کردہ رپورٹ کے جواب میں خارجہ امور کمیٹی کے ایک اہم ری پبلکن رکن مائیکل میکوئل نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین اب ہمارا قابلِ بھروسہ ساتھی نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے کرونا وائرس سے متعلق عالمی برادری سے جھوٹ بولا اور اس مقصد کے لیے اس نے ڈاکٹروں اور صحافیوں کو سچ بتانے سے دباؤ ڈالا۔

اُن کے بقول، چین اب اپنے ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں اور متاثرہ مریضوں سے متعلق درست اعداد و شمار بھی چھپا رہا ہے۔

مائیکل میکوئیل سمیت دیگر ری پبلکن ارکان نے وزارتِ خارجہ سے کہا ہے کہ وہ عالمی وبا سے چین میں ہونے والی تباہی کے درست اعداد و شمار کی تحقیقات کرے۔

ری پبلکن سینیٹر بین سسی نے چین میں متاثرین کی تعداد سے متعلق کہا تھا کہ یہ غلیظ پروپیگنڈا نے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کا یہ دعویٰ کہ اس کے ملک میں امریکہ کے مقابلے میں کم ہلاکتیں ہوئی ہیں، یہ جعلی ہے۔

کسی خفیہ رپورٹ کا ذکر کیے بغیر بین سسی کا کہنا تھا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق غلط بیانی کر رہی ہے اور اپنے ملک کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *