ہمارے نمائندوں نے کیا دیکھا؟

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن جاری ہے اور شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں ہمارے نمائندے ان مناظر کو بیان کر رہے ہیں جو انہیں اس صورتِ حال میں رپورٹنگ کے دوران دکھائی رہے ہیں۔ وہ اس بارے میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کر رہے ہیں۔

گھر سے کرنا کام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

خالد حمید، واشنگٹن ڈی سی۔۔۔ منگل، 31 مارچ 2020​

مثال سنتے آئے تھے کہ ایک ننھی سی چیونٹی دیو ہیکل ہاتھی کی سونڈ میں گھس جائے تو پورا ہاتھی ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر قران مجید میں اصحابِ فیل کا قصہ پڑھا کہ ہاتھیوں کے لشکر پر ابابیلوں نے کنکریاں برسا کر انہیں شکست فاش دے دی۔

دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ نمرود کی فرعونیت کا کیسے خاتمہ ہوا۔ پھر چنگیز خان، ہلاکو خان، مغل بادشاہ اور ہٹلر جیسے بڑے بڑے سورما دنیا فتح کرنے نکلے تو یا تو راستے میں مارے گئے یا پھر کچھ علاقے فتح کر کے فاتح عالم کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔

لیکن بھائی یہ کرونا کیا بلا ہے؟ جو شہر کے شہر اور ملک کے ملک ڈھاتا چلا جا رہا ہے اور رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جو نہ دکھائی دیتا ہے، نہ سنائی دیتا ہے اور نہ ہی اس کی بظاہر کوئی ہیئت ہے۔

بڑی بڑی اعلٰی خورد بینوں سے تلاش کرنے بیٹھیں تو ہزاروں جرثوموں میں سے کوئی ایک چھوٹا سا جرثومہ دکھے گا، جسے عام حالات میں بندہ کہے کہ “چہ پدی کہ پدی کا شوربہ۔”

نہیں بابا نہیں، کہیں ناراض ہی نہ ہو جائے کہ میری توہین کر دی اور کہے کہ دکھاؤں اپنا جلوہ اور دوسرے ہی لمحے ہم پڑے ہوں اسپتال میں۔

لیکن جناب اس نے کیا تباہی مچائی ہے۔ نہ کوئی فوج، نہ لاؤ لشکر، نہ توپیں، نہ بحری اور ہوائی جہاز، نہ میزائل اور نہ ہی ایٹم بم۔ لیکن پوری دنیا ہیروشیما اور ناگاساکی ہو گئی ہے۔

یہ کم بخت کہاں، کیسے اور کب جسم میں گھس جاتا ہے اور آناً فاناً فرعون جیسا مغرور، بکتر بند جیسا مضبوط، بحری جہاز جیسا دیو ہیکل اور جیٹ جہاز جیسا پھرتیلا انسان بھی چاروں خانے چت ہو جاتا ہے۔

اور یہیں بس نہیں کرتا بلکہ ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے انسانوں، شہروں اور ملکوں کی سرحدیں پار کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی نہ کوئی حد ہے نہ ہی اس پر کوئی سرحدی پابندیاں۔ نہ سپر پاور دیکھتا ہے، نہ مظلوم ملک۔ غریب کی جھونپڑی سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک سب پر یکساں وار کرتا ہے۔

نتیجتاً پوری دنیا پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ ہو کا عالم ہے، بازار بند، سڑکیں ویران، اسکول، کالج اور دفتر سائیں سائیں کر رہے ہیں۔ لوگ گھروں کے کونوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ نہ مصافحہ رہا ہے نہ معانقہ، نہ عبادتیں، نہ ریاضتیں، نہ جماعت ہے، نہ طواف ہے، نہ ہی محفلیں رہیں اور نہ دعوتِ طعام ہے۔

شاعر سے معذرت کے ساتھ:

اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی قبر نہ پائی تو کدھر جائیں گے

پہلے پہل تو لوگ اسے مزاقاً ہی لیتے رہے اور جگتیں کرتے رہے۔ مگر پھر ایک رات جب سونامی سر پر آ گیا تو جنگ کا نقارہ بجنے لگا۔ دفتر، کاروبار، اسکول سب بند ہو گئے۔ جو بڑی طاقتیں سمجھ رہی تھیں کہ ہمیں کون چھو سکتا ہے، وہ سب سے پہلے بھاگیں۔ کیوں کہ جتنا بڑا سامان، اتنا بڑا نقصان۔

جب دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کا نظام زندگی بند ہونا شروع ہوا تو ہمیں یہ اطمینان تھا کہ دارالحکومتوں کے دارالحکومت واشنگٹن میں بیٹھے ہیں اور پھر 45 سے زیادہ زبانوں کی نشریات والا وائس آف امریکہ جیسا ادارہ کہاں بند ہو سکتا ہے۔

لیکن اچانک ایک دن حکم نامہ آیا کہ گھر سے کام کرنے کا فارم اور معاہدہ دستخط کر کے بھیج دیںا۔ اور یہ بہت ہی ضروری ہے۔

ہم نے بھی بادلِ نخواستہ وہ فارم بھر دیا۔ کیوں کہ زعم یہ تھا کہ باقی سب کام تو گھر سے ہو سکتے ہیں۔ لیکن خبریں گھر سے کیسے ہو سکتی ہیں؟ مائیک، کیمرہ اور اسٹوڈیو گھر میں کہاں سے آئے گا۔

لیکن جناب پھر دیکھا کہ دیگر ملکوں اور شہروں کی طرح واشنگٹن ڈی سی بھی بند ہونا شروع ہو گیا۔ آہستہ آہستہ ہمارے دفتر کے مختلف شعبے اور لوگ بھی گھر سے کام کرنے لگے۔

ہم پھر بھی دفتر آتے رہے۔ لیکن کام اس وقت بگڑا جب اسٹوڈیو کے ایک انجینئر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جو بعد میں خوش قسمتی سے صحت یاب بھی ہو گئے۔ لیکن دفتر میں ایک دہشت سی پھیل گئی اور اسٹوڈیو بند ہو گئے۔

اب ہمارے ٹی وی والوں نے تو کیمرے سنبھالے، رپورٹر اور اینکر باہر خوبصورت مقامات پر جا کر نشریات کرنے لگے۔ ریڈیو کے بھی کچھ ساتھیوں نے گھر سے ہی کام کرنے میں عافیت جانی۔ اب رہ گئے ہم اور دو، چار ساتھی جو میدانِ جنگ میں اپنے افسران کی آشیر باد سے آخری وقت تک ڈٹے رہے۔ چند دن اسی حالت میں گزرے اور پھر بلآخر کوچ کا حکم آ گیا۔

کچھ تیکنیکی ماہرین نے سیل فون سے ریڈیو اور فیس بک براڈکاسٹںگ کے بارے میں سمجھا کر ایسے گھر بھیج دیا جیسے تیراکی نہ جاننے والے کو سمندر میں دھکا دے دیتے ہیں۔

ہم پریشانی کے عالم میں گھر آ گئے کہ یہ سب کیسے ہو گا؟ ایسے میں بیوی اور بیٹی کام آئیں اور مشورہ دیا کہ بیٹی مدیحہ (جن کی شادی ہو چکی ہے) کے کمرے کو اسٹوڈیو بنا دیا جائے۔

تجویز پر فوراً عمل کرتے ہوئے کمرے کی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو گئی۔ بستر کا گدا کھڑکی کے ساتھ اور اس کے تختے کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا تاکہ باہر کا شور اندر نہ آ سکے۔ لکھنے والی میز کو بیچ میں رکھ کر ڈیسک بنا دیا گیا۔

بیٹی ربیعہ نے اپنا کمپیوٹر حوالے کیا تاکہ ای میل، خبریں اور دوسری معلومات تک رسائی ہو۔ ایک پرنٹر خریدا گیا جو بہت ضروری تھا۔

ریڈیو کا بلیٹن تو آسان تھا کہ خبریں چھاپ کر سیل فون سے ریکارڈ کر کے پروڈیوسر انجم گل کو بھیج دی جائیں جو اس کی قطع برید کر کے نشریہ میں ڈال دیں۔ مسئلہ فیس بُک لائیو کا تھا کہ وہ کیسے ہو گا؟

اللہ بھلا کرے بیٹے حارث کا جو کیلی فورنیا میں اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ اس نے بہت پہلے ایک کیمرہ لائٹ بھیجی تھی جو کام آ گئی اور مائیکرو فون ہمارے ساتھی فواد الیاس لے آئے۔

کمرے میں سیٹ ڈیزائننگ اور کپڑوں کا انتخاب مونا بیگم کی ذمہ داری ٹھہرا اور سارے تیکنیکی امور ربیعہ نے پورے کیے۔ کیوں کہ ہم تو اس معاملے میں پیدل ہیں۔ وہ اب بھی یہ کام بڑی ذمہ داری سے نبھا رہی ہیں۔

غرض یوں فیس بک کا بلیٹن، ہنگامی حالات میں عارضی اسٹوڈیو سے آپ تک پہنچ رہا ہے۔ یہ تو صرف میری کہانی ہے، لیکن ہماری دیگر سروسز کے کتنے ہی ساتھی اینکر اور رپورٹرز ہیں جو اسی طرح گھروں میں اسٹوڈیو بنا کر کام کر رہے ہیں۔

لیکن میرا فخر اور اعزاز بالکل جدا ہے۔ جو سفر آج سے کئی دہائیوں پہلے ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں بچوں کے ایک پروگرام سے شروع ہوا تھا۔ وہ ایک نازک سا رشتہ اپنے سامعین سے جڑا تھا جو ریڈیو نیوز اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے ناظرین کے دلوں میں گھر کرتا ہوا قراقرم کے پہاڑوں جیسا مضبوط ہو گیا ہے۔ ہزاروں میل دور امریکہ آ کر بھی اس رشتے اور لوگوں کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

بارش ہو یا آندھی، طوفان ہو یا برف باری، خبروں کا یہ رابطہ قائم رہا ہے۔ آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا کرونا بھی ہمارے اس رشتے کو نہیں توڑ سکا۔

‘کراچی میں لاک ڈاؤن ہے، لیکن لوگ سنجیدہ نہیں’

سدرہ ڈار، کراچی۔۔۔ جمعرات، 26 مارچ 2020​

دو روز قبل رات دس بجے جب کرونا کی وبا سے بچاؤ کے لیے شہر بھر کی مساجد سے دی جانے والی اذانوں سےشہر گونج اٹھا تو نعمان کے والدین کو تشویش ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے بیٹے کو آفس جانے سے منع کر دیا۔ نعمان جن کا تعلق میڈیا سے ہے ان کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ گھر والوں کی مانیں یا آفس کی۔ یوں ایک دن کی چھٹی کے بعد وہ پھر دفتر روانہ ہو گئے۔

شمیم صدیقی ریٹائرمنٹ کے بعد اب پرائیویٹ جاب کر رہے ہیں اور لاک ڈاون کے باوجود انہیں کام کی غرض سے باہر نکلنا پڑ رہا ہے۔ لیکن آج انہیں ایک ناکے پر پولیس والوں نے یہ کہہ کر واپس گھر بھیج دیا کہ انکل آپ کی عمر اب 50 سے اوپر ہے گھرجائیں۔ جا کر آرام کریں اور فیملی کے ساتھ وقت گزاریں۔

لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے ہر وہ دوسرا شخص اس صورتِ حال سے گزر رہا ہے جو اپنی نوکری کے سبب باہر نکلتا ہے۔ فرقان بھی ان ہی میں سے ایک ہیں جنہیں بینک تک جانے کے لیے پولیس اور رینجرز والوں کو ہر چوک اور شاہراہ پر لگے ناکے پر اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ آفس کال ملا کر بات بھی کرانا پڑی۔ یہ صورتِ حال ان کے لیے مشکل رہی لیکن وہ اس لیے بیزار نہیں کہ وہ سختی کو جائز سمجھتے ہیں۔

حکومتِ سندھ نے لاک ڈاؤن کے دوران اشیائے خورونوش کی دُکانوں، میڈیکل اسٹورز، دودھ اور سبزی کی دُکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن دیگر کاروباری مراکز بند ہیں۔ البتہ نئے احکامات کے تحت مذکورہ دُکانیں بھی صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک ہی کھلیں گی۔

اب شہر میں چند روز کا کرفیو بھی لگ سکتا ہے جس کے بعد مزید سختی ہو جائے گی ان قیاس آرائیوں نے افراتفری میں اضافہ کر دیا ہے۔ گھر والوں نے ضروری ادویات کے لیے فکر مندی کا اظہار کیا تو میں نے سوچا کہ ایک بڑے میڈیکل اسٹور جو گھر سے 10 منٹ کی ڈرائیور پر ہے۔ وہاں سے جا کر یہ دوائیں خرید لی جائیں۔

لیکن باہر نکلتے ہی اندازہ ہوا کہ یہ مہم آسان نہیں۔ گھر سے نکلتے ہی پہلے چوک کی تمام سڑکوں کو پولیس اور رینجرز کے جوانوں نے گاڑیوں اوردیگر رکاوٹوں کی مدد سے بند کر رکھا تھا۔ جہاں سے گاڑیاں اور موٹر سائیکل سواروں کو واپس مڑنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ سو مجھے بھی منزل تک پہنچنے کے لیے گلیوں میں مڑنا پڑا۔

اہم شاہراہیں چونکہ سنسان ہیں اس لیے گلیوں سے جو راستے مساجد کی طرف جاتے ہیں وہاں سبزی او ر پھل فروش آ بیٹھے ہیں۔ تاکہ مساجد کی طرف آنے والے ان سے خریداری کر سکیں۔

فائل فوٹو

اندر جو مارکیٹس ہیں ان میں زندگی اب بھی رواں دواں ہے۔ خاص کر نوجوانوں پر شاید اس وائرس کا کوئی خوف نہیں اس لیے وہ کرکٹ کھیلنے میں مصروف دکھائی دیے۔ میں ان نوجوانوں کی غیر سنجیدگی سے متعلق سوچ ہی رہی تھی کہ میرے سامنے ہی منظر یکسر تبدیل ہو گیا۔

رینجرز کی ایک موبائل جو غالباً گشت پر تھی وہاں پہنچی اور انہوں نے کرکٹ کے شوقین نوجوانوں کو ڈنڈوں سے پیٹنا شروع کر دیا۔ یہ منظر ارد گرد کے ان شہریوں کے لیے بھی وارننگ ہی ثابت ہوا ہو گا۔ جو کرکٹ کھیلنے کا سوچ رہے ہوں گے۔

گلیوں سے نکلنے اور کئی رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد میں ایک گھنٹے کے بعد میڈیکل اسٹور پہنچی جہاں سے ضروری ادویات لینے کے بعد اب واپسی کی مہم بھی شروع کرنی تھی۔

یہاں سے بھی واپسی پر پیٹرول پمپس پر گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کی قطاریں نظر آئیں۔ وہی مرکزی شاہراہیں رکاوٹیں لگا کر بند ملیں۔ اور پھر سے کچھ نوجوانوں کو لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر سزائیں ملتے دیکھا۔

جن راستوں سے میں گزر کر آئی تھی وہاں گوشت اور کریانے کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں لیکن اب گھنٹہ بھر میں سب بند ہو چکا تھا۔ رینجرز کے جوان جگہ جگہ موبائل سے اترتے اور دکانیں بند کراتے دکھائی دیے۔

ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے یا کھڑے نوجوانوں کو پہلے سختی سے سمجھایا جاتا اور گھروں کو واپس بھیجا جارہا تھا۔ سب سے مشکل صورتِ حال گھر کے قریب کے راستے بند ہونے کے سبب مختلف گلیوں سے نکلنے کا راستہ اختیار کرنا تھا۔

فائل فوٹو

جو کہیں نہ کہیں جاکر بند ملتیں اور پھر واپس اسی جگہ آنا پڑتا جہاں سے داخل ہوئے تھے۔ تین ناکوں پر مجھے جا کر رینجرز کے جوانوں سے کہنا پڑا کہ اگر ممکن ہوسکے تو یہ راستہ کھول دیں تاکہ میں گھر پہنچ سکوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی مشکل سمجھ سکتے ہیں لیکن اگر آپ کے لیے یہ رکاوٹ ہٹا کر آپ کو جانے دیتے ہیں تو پھر آس پاس کھڑے لوگوں کو بھی راستہ دینا پڑ جائے گا جو ممکن نہیں۔

یہ تو طے ہے کہ آپ کے پاس شناختی کارڈ ہو یا ادویات لینے کے لیے ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ، رعایت کسی صورت نہیں۔ جو راستہ بند ہے وہاں سے گاڑی کا گزرنا ناممکن ہی ہے۔

اس صورت میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسے قریب ہی جانا ہے تو وہ یوں گیا اور یوں آیا اسے یہ سوچ بدلنا ہو گی۔ تو جو لوگ بھی باہر نکلیں ان کی گاڑی میں پیٹرول پورا ہونا چاہیے اور برداشت بھی اتنی زیادہ کہ وہ ایسی مشکل صورتِ حال پر گھبراہٹ کا شکار ہونے کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ لے سکیں۔

باہر جو سختی کا ماحول میں نے ڈھائی گھنٹے میں دیکھا وہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام ابھی اس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی جس کی اشد ضرورت ہے۔ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے اب بہت سے لوگ کرفیو کو ہی واحد حل سمجھ رہے ہیں۔

جس پر پہلے ہی سندھ حکومت اشارہ دے چکی ہے۔ لیکن لاک ڈاون ہو یا کرفیو کرونا سے بچنے کا واحد حل احتیاط اور گھروں میں محدود رہنا ہی ہے جو صرف ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔

‘آج کراچی کا منظر وہی تھا جو برسوں پہلے ہڑتالوں میں دکھائی دیتا تھا’

سدرہ ڈار، کراچی۔۔۔ پیر، 23 مارچ 2020

عطیہ ناز کی ڈاکٹر سے ریگولر چیک اپ کی تاریخ 24 مارچ ہے اور انھیں آج صبح اسپتال سے یہ ٹیکسٹ موصول ہوا کہ اسپتال ریگولر چیک اپ کی نئی تاریخ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جاری کرے گا۔ عطیہ نے اپنی بیماری کی تمام ضروری ادویات پہلے سے ہی لے کر گھر میں رکھ لی ہیں لیکن انہیں یہ فکر بھی ہے کہ پندرہ روز کے بعد کیا ہو گا۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سندھ میں رپورٹ ہو رہے ہیں اور اسی وجہ سے سندھ حکومت نے کراچی سمیت سندھ بھر میں 15 دن کے لئے لاک ڈاون کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاک ڈاون کا اطلاق 23 مارچ کی نصف شب ہوا، جس کے بعد شہر بھر کی سڑکوں پر پولیس کی اضافی نفری نے شہریوں کو اس پر عمل در آمد کرانا شروع کر دیا۔

لاک ڈاون کے پہلے روز شہر بھر کی صورت حال کیا رہی اس کی رپورٹنگ کی غرض سے جب باہر نکلنا ہوا تو پہلی دشواری کریم سروس کی بندش سے ہوئی۔ جن کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ حالات کے پیش نظر وہ اپنی سروس معطل کر رہے ہیں۔

رہائشی سوسائٹی سے باہر نکلنے کے لئے پیدل چلنا مناسب سمجھا۔ واک کے دوران احساس ہوا کہ شہری گھروں میں محصور ہیں۔ مرکزی گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی گارڈز نے گیٹ کو بند کر رکھا تھا۔ میں اپنے کیمرہ مین کے ہمراہ شہر کا جائزہ لینے کے لئے نکلی تو پولیس نے دو جگہ ہمیں روک کر پوچھ گچھ کی اور مقصد جاننے اور شناخت کے بعد آگے جانے کی اجازت دی۔

کئی سڑکوں پر پولیس نے رکاوٹیں بھی کھڑی کر رکھی تھیں جب کہ موبائل کے ساتھ پولیس اہل کار بھی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر جانچ پڑتال کرنے میں مصروف دکھائی دئیے۔ دو سے تین کریانے کی دکانیں ضرور کھلی ہوئیں تھیں، لیکن اس سفر کے دوران ہمیں کہیں بھی کوئی بڑی دکان یا مارکیٹ کھلی نظر نہ آئی۔

لاک ڈاون میں ہر قسم کے کاروباری مراکز، مارکیٹس، مالز، شادی ہالز، کلب، سینما گھر بند رکھنے کے سخت احکامات ہیں، جب کہ سیاسی اور مذہبی اجتماعات پر بھی پابند عائد ہے۔ لیکن اسپتال، راشن کی دکانیں، دودھ، سبزی، گوشت کی دکانوں سمیت، پیٹرول پمپ، واٹر ہائیڈرینٹس، ایمبولینس سروسز اپنا کام جاری رکھ سکیں گی۔

فائل فوٹو

شہریوں کی نقل و حرکت بھی کسی ضروری کام کی تحت جاری رہ سکتی ہے۔ جگہ جگہ پولیس کے ناکوں پر سے گزرنے والوں سے شناختی کارڈ مانگا جا رہا ہے اور دفتر جانے والوں سے ان کا آفس کارڈ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پولیس نے دو ایسی گاڑیوں کو روکا جس میں ڈرائیور کے علاوہ تین افراد سوار تھے، لیکن وہ اسپتال جا رہے تھے اور اس میں ایک عمر رسیدہ بیمار خاتون بھی تھیں۔ پولیس نے انہیں فوری جانے دیا جب کہ دوسری گاڑی میں بھی ڈرائیور کے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص کو اسپتال جانے کی اجازت مل گئی۔

میونسپل سروسز کے لوگوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی تھی تاہم کچھ نوجوان جو اپنی آمد و رفت کی درست وجہ بتانے سے قاصر تھے انھیں واپس جانے کے لیے کہا گیا۔

پولیس وقتاً فوقتاً لاوڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلانات بھی کرتی سنائی دی کہ لوگ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ شاید اسی سختی کے پیش نظر آج شہر کا منظر وہی تھا جو کئی برس پہلے ہڑتالوں میں دکھائی دیتا تھا۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بالکل نظر نہیں آئی۔ گلیاں، محلے سناٹے کا منظر پیش کر رہے تھے۔ مارکیٹس مکمل طور پر بند تھیں تاہم ان بند دکانوں کے باہر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ ڈیوٹی دیتے دکھائی دئیے۔

فائل فوٹو

لاک ڈاون کے بارے میں لوگوں کی مختلف آراء بھی سامنے آ رہی ہیں، ضلع وسطی کی رہائشی سیما کے نزدیک یہ اقدام مؤثر ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ ایسے مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دینا سب شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈاون کے اعلان سے قبل ہی انھوں نے اپنے گھر میں مہینے بھر کا راشن رکھ لیا تھا۔ لیکن انھیں صرف یہ تشویش ہے کہ ان کی والدہ کی طبیعت اگر اس دوران خراب ہوئی تو انھیں اسپتال پہنچانے میں مشکل کا سامنا نہ ہو۔

مسز صائمہ اس ساری صورت حال سے پریشان ہیں۔ ان کے شوہر ملازمت کے سلسلے میں اسپین میں مقیم ہیں اور خیریت سے ہیں۔ صائمہ سمجھتی ہیں کہ لاک ڈاون صرف صوبے میں ہی نہیں، بلکہ ملک بھر میں ہونا چائیے کیونکہ پاکستان اس وبا کے سبب بڑے نقصان کو جھیلنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

شہریار بزنس کرتے ہیں اور ان دنوں گھر پر اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کا فیصلہ بالکل درست ہے اور جو شہری اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے انھیں دوسرے ممالک کا حال دیکھ کر سوچنا چائیے کہ اس وقت گھر میں بند رہنا ہی خود کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ انھیں یقین ہے کہ اگر ان پندرہ روز میں سرکار کی جانب سے دیے گئے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کر لیا گیا تو اس وبا پر قابو پانا قدرے آسان ہو سکے گا۔

کرونا وائرس کے خدشات اور ہینڈ سینیٹائزر کی تلاش

سدرہ ڈار، کراچی۔۔۔ بدھ، 18 مارچ 2020

کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز اس وقت سندھ میں رپورٹ ہوئے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھ رہے ہیں۔ سندھ حکومت کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کئی اہم اقدامات بھی کر رہی ہے۔

صوبائی حکومت نے شادی ہالز میں تقریبات، عوامی اجتماعات اور گلی محلوں میں ہونے والی مختلف تقریبات پر بھی پابندی لگا دی ہے جب کہ سرکاری دفاتر، شاپنگ مالز، سینما گھر، بازاروں اور تفریحی مقامات کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ان تمام اقدامات کا مقصد شہریوں کو گھروں میں زیادہ سے زیادہ رکھنا اور سماجی رابطوں کو محدود کر کے اس وبا کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

دوسری جانب عوام دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی راشن کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں نے کسی بھی ممکنہ لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر احتیاطی اقدامات کے تحت گھروں میں راشن ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

شہر کے بڑے مارٹ ہوں یا گلی محلوں کی عام دکانیں، اس وقت ہر جگہ خریداروں کا رش دکھائی دے رہا ہے۔

گھر میں ضرورت کی تمام چیزیں موجود ہوں اور راشن کی کمی نہ ہو، اس سوچ نے مجھے بھی بازار کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ اشیائے خور و نوش کے علاوہ مجھے سب سے زیادہ ضرورت ہینڈ سینیٹائزر کی تھی۔ لیکن تین بڑے سپر اسٹورز اور دو میڈیکل اسٹورز پر سینیٹائزر نہ ملا تو مجھے ایک اور مارٹ کا رخ کرنا پڑا۔

مارٹ میں داخل ہوتے ہی میں نے وہاں پہلی بار ضرورت سے زیادہ رش محسوس کیا۔ رش اس قدر زیادہ تھا کہ کرونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدبیر یعنی لوگوں سے تین فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا تو ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔

لوگ اپنی ٹرالیوں میں سامان بھر رہے تھے اور کوئی قیمت پر بھی بحث نہیں کر رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے جنگ کی سی کوئی صورتِ حال ہو۔

آٹا، چاول، چینی، چائے کی پتی، دودھ، دالیں، گھی اور تیل سب سے زیادہ خریدے جا رہے تھے۔ جو کوکنگ آئل ہمارے گھر میں استعمال ہوتا ہے، وہ وہاں میسر نہیں تھا۔ لیکن اب سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا۔ صرف دو سے تین کمپنیوں کے کوکنگ آئل موجود تھے، میرے پاس وہی لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

فائل فوٹو

چاول، دالیں، چائے کی پتی اور آٹا لینے کے بعد مجھے جو شیلفس خالی نظر آنے لگے ان میں ہینڈ واش اور سینٹائزر شامل تھے۔ کیش کاؤنٹر پر جب میری باری آئی تو میں نے سینیٹائزر کا پوچھا۔ مجھے جواب ملا کہ اگر آپ کو ضرورت ہے تو میں اندر سے کہہ کر منگوا دیتا ہوں۔ وہ بھی اس لیے کہ آپ ہماری ریگولر کسٹمر ہیں۔

مجھے کافی حیرت ہوئی کہ اگر یہ چیز موجود ہے تو اسے شیلف پر ہونا چاہیے نہ کہ اندر چھپا کر رکھا جائے۔ میرے دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ شیلف پر رکھے سینیٹائزر کو ہر شخص نے ایسے اٹھایا ہے جیسے اس نے سال بھر کا اسٹاک ذخیرہ کرنا ہو۔ اس لیے اسے شیلفس سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ طلب کرنے پر ایک فیملی کو ایک بوتل دے دی جائے۔

بلنگ کے دوران کیش کاؤنٹر پر کھڑا نوجوان کہنے لگا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب سینیٹائرز شیلف میں رکھے رکھے دھول جم جاتی تھی۔ ہمیں بھی یہ لگتا تھا کہ اگر اس کی ضرورت ہے ہی نہیں تو یہ کیوں رکھی ہے؟ آج یہ وقت ہے کہ اسی کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ چیز ہی وائرس سے بچا سکتی ہے۔

میرے لیے جب سینیٹائزر آیا تو اسے ایک شاپر میں لپیٹ کر میرے سامان میں چھپا کر رکھا گیا تاکہ آس پاس کھڑے لوگ تقاضا نہ کریں اور اس چھوٹی سی بوتل کو میں نے 220 روپے کے عوض وصول کیا۔

ایک میڈیکل اسٹور والے نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اسپرٹ اور ڈیٹول کی مانگ میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ کیوں کہ شہریوں نے ہینڈ سینیٹائزر کی عدم دستیابی کے سبب ان دونوں اشیا کو پانی میں ملا کر ہاتھ صاف کرنے کی ترکیب پر عمل شروع کر دیا ہے۔

لیکن دوسری جانب شہر میں دیہاڑی دار مزدور طبقہ بھی ہے جو مہینے بھر کا راشن گھر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ وہ روز کما کر روز کا راشن خریدتے ہیں اور اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ ان کے لیے صابن، ڈیٹول، ماسک اور ہینڈ سینٹائزر کسی لگژری آئٹم سے کم نہیں ہیں۔

کرونا وائرس: ‘سڈنی کی ہر گلی میں خوف کا ماحول ہے’

ارم عباسی، سڈنی۔۔۔ منگل، 17 مارچ 2020

ضبح کے تین بجے اچانک ہوٹل میں فائر الارم بجا۔ اعلان ہوا کہ سب اپنا کمرہ چھوڑ دیں کیوں کہ عمارت میں آگ لگ گئی ہے۔ ایسے حالات میں جب خوف و ہراس اپنے عروج پر ہے اور کرونا وائرس نے پوری دُنیا میں کہرام مچا رکھا ہے۔ وہاں عمارت میں آگ کے خدشے نے خوف میں مزید اضافہ کر دیا۔

ڈر کے مارے آلارم بجتے ہی فوراً انکھ کھولی اور باقی مسافروں کی طرح میں بھی لفٹ میں سوار ہو گئی۔ لفٹ میں پانچ لوگ موجود تھے۔ ماسک پہنے ایک خاتون نے جب چھینک ماری تو وہاں موجود لوگوں کے چہروں سے عیاں تھا کہ جیسے وہ آگ سے زیادہ اس چھینک سے پریشان ہو رہے ہیں۔

کچھ دیر لابی میں انتظار کے بعد بتایا گیا کہ حالات قابو میں ہیں فائر ورکرز نے عمارت کو محفوظ بنا دیا ہے۔ اور ہمیں اپنے کمروں میں واپس جانے کی اجازت دی گئی۔ اسی دوران ایک بھارتی جوڑے سے بات ہوئی جو چنائی سے سڈنی گھومنے آئے تھے۔

لابی میں بھی لگ بھگ 30 افراد جمع تھے اور واپس کمرے میں جانے کے انتظار میں آنکھیں مل رہے تھے۔ زیادہ تر ایشیائی باشندے لابی میں نظر آئے۔ بھارتی سیاح خاتون نے جملہ کسا کہ “اگر آگ سے بچ گئے تو اتنے قریب موجود ایشینز سے کیسے بچیں گے۔” میں تھوڑی شرمندہ ہوئی اور دعا کی کہ ان کو ہندی نہ سمجھ آتی ہو۔

فائل فوٹو

پریشانی اور خوف کا ماحول سڈنی کی ہر گلی میں ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اکا دکا لوگ ہی سٹرکوں پر نظر آتے ہیں۔ میرا ہوٹل سڈنی کے ایسے مقام پر ہے جہاں چین اور کوریا سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد مقیم ہے۔ یہاں بیشتر ریستوران بھی ایشیائی باشندوں کے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے ماسک پہن رکھے ہیں۔

آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز اب سڈنی بن چکا ہے۔ اب تک ملک بھر میں کل 400 سے زیادہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جن میں 210 کیسز سڈنی میں ہیں۔

سڈنی میں منگل کو ایک دن میں 30 سے زیادہ کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد خکومت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اختیاطی تدابیز استعمال نہ کی گئیں تو آنے والے ہفتوں میں وائرس بڑے پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

اپنے ہوٹل روم میں بند ہونے سے کچھ دن پہلے میں سڈنی میں واقع دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں سے ایک ‘میکاری یونیورسٹی’ میں گئی۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے متعدد اساتذہ نے بتایا کہ حاضری 40 فی صد کم ہے۔ اس یونیورسٹی میں دو ہزار عملہ جب کہ 40 ہزار کے قریب طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

ہفتے کے آغاز یعنی پیر کو یونیورسٹی میں ایک طالب علم کرونا وائرس کا شکار ہو گیا۔ جس کے بعد سڈنی کی بیشتر یونیورسٹیز بند کر دی گئیں۔

اب ملک میں اسکولز بند کرنے پر بھی غور جاری ہے۔ آسٹریلیا کی سرکاری ایئر لائن کنٹاس نے بھی اپنے بیشتر جہاز گراؤنڈ کر دیے ہیں۔ جس سے مسافروں کو دُشواری کا سامنا ہے۔

سڈنی میں بھی لوگ ضرورت سے زیادہ خریداری کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے منفی اثرات میں ضرورت سے زیادہ خریداری بھی شامل ہے۔ امریکہ اور دیگر ملکوں کی طرح سڈنی میں بیشتر سپر اسٹورز کے متعدد شیلوز خالی ہیں۔ لوگ گبھرا کر زیادہ خریداری کر رہے ہیں۔ جس کا زیادہ نقصان معذور افراد کو ہو رہا ہے۔

ہفتے کے اوائل سے متعدد سپر اسٹورز نے بزرگوں اور معذور افراد کے لیے خریداری کے علیحدہ اوقات مقرر کیے ہیں تاکہ وہ ضروریات زندگی سے محروم نہ ہوں۔

آسٹریلیا کے کوئنزلینڈ اسپتال میں داخل اداکار ٹام ہینکس اور اُن کی اہلیہ کو صحت یابی کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ ہفتے کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد انہیں اسپتال داخل کرایا گیا۔

ٹام ہینکس اور اُن کی اہلیہ ریٹا ولسن ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں آسٹریلیا کے دورے پر تھے جہاں اُن کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

میرا سڈنی، میری مرضی

ارم عباسی، سڈنی۔۔۔ جمعہ، 13 مارچ 2020

میری سڈنی سے واپسی تو گزشتہ ہفتے تھی لیکن کرونا وائرس کے باعث اس شہر سے نکلنے میں ابھی کچھ وقت ہے۔ سڈنی میں قیام کے دوران میں نے یہاں رہنے والے پاکستانیوں کے ساتھ وقت گزارنے کی کوشش کی۔ شہر اور شہریوں کے بارے میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے زیادہ کون جان سکتا ہے؟ لہٰذا میں نے بھی ٹیکسی ڈرائیورز سے ہی رابطہ کیا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو آسٹریلیا آئے ہوئے لگ بھگ ایک دہائی ہو چکی ہے۔ وہ اور ان کے لاہوری وکیل ساتھی کو جب معلوم ہوا کہ ایک پاکستانی صحافی اس شہر میں پھنس گئی ہے تو وہ میزبانی میں پیش پیش رہے۔

دونوں دوست تعلیم یافتہ ہیں اور سڈنی میں ابتدائی جدوجہد کے بعد اب کچھ اطمینان بخش زندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں اب آسٹریلوی شہری ہیں۔ وہ اپنے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے لیکن انہیں اپنے خیالات پر فخر ہے۔

باتوں کے دوران وہ پوچھنے لگے کہ “خلیل الرحمان قمر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟” پھر وکیل صاحب خود ہی بولے “دیکھیں عورت کو گالی بالکل نہیں دینی چاہیے۔ لیکن ماروی سرمد بھی تو حد سے بڑھ رہی ہیں ناں۔”

میں نے بے ساختہ پوچھا کہ ماروی نے کیا کیا ہے؟ وہ خواتین کے حقوق ہی تو مانگ رہی ہیں۔

فائل فوٹو

وکیل صاحب بولے۔ “ہم بھی نہیں چاہتے کہ غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل ہو یا ان کے ساتھ زیادتی ہو۔ لیکن میرا جسم میری مرضی کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بس جہاں دل چاہے وہاں مرضی چلا لو۔ میں آج کپڑے نہیں پہنتی، میری مرضی۔ اب ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں اور ماؤں کو تو اس راہ پر نہیں چلا سکتے کہ وہ میرا جسم میری مرضی کرتی پھریں۔ انہیں ضرورت نہیں کہ وہ اس طرح کی مہم کا حصہ بنیں۔ وہ ہماری عزت ہیں اور میرا جسم میری مرضی کو بے حیائی سمجھتی ہیں۔”

پاکستانی ڈرائیور بھائی نے بھی ان کا ساتھ دیا اور کہنے لگے کہ عورت کی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے پار کرے گی تو مرد کو غصہ تو آئے گا۔

میں نے پوچھا کہ عورت کی حد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا “وہ حد سے باہر نہ ہوں۔ کیا وہ مردوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرتیں؟ انہیں مردوں کو غصہ نہیں دلانا چاہیے۔”

وکیل بھائی بولے “اگر ایک بازو پر پھوڑا ہو اور آپ اس طرح پیش کریں کہ جیسے پورا جسم ہی بیمار ہے تو یہ غلط ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ عورتیں کسی مغربی ایجنڈے پر چل رہی ہیں یا پھر خود ان کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔ اسی لیے اس طرح کی باتیں کر رہی ہیں۔”

میں نے پوچھا کہ کیا زیادتی پر برہمی غلط ہے؟ کیا خواتین دوسری خواتین یا اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بات نہیں کر سکتیں؟

جواب آیا، “ہاں کریں۔ لیکن ہماری بہنوں کو بیچ میں کیوں لاتی ہیں؟”

عورت مارچ کی بیشتر شرکا کا ماننا ہے کہ یہی رویے معاشرے میں عورت کے خلاف امتیازی سلوک کو جنم دیتے ہیں۔

میرے ہوٹل کے راستے میں ایک قبرستان آیا۔ ڈرائیور صاحب وہاں سن 2010 سے 2015 تک گارڈ کی نوکری کرتے رہے تھے۔ میں کچھ دیر کے لیے وہاں رکی۔

ڈھلتے ہوئے سورج کی روشنی میں یہ قبرستان موت اور زندگی کا حسین امتزاج لگ رہا تھا۔ سڈنی کی برونٹی بیچ اور کلوولی بیچ کے درمیان واقع یہ قبرستان 40 ایکڑ پر پھیلا ہے۔ اس میں مشہور آسٹریلوی شاعر ہیری لاسن اور ہنری کینڈل سمیت کچھ سیاست دان اور کھلاڑیوں کی بھی آخری آرام گاہیں ہیں۔

ڈرائیور صاحب نے ایک قبر دکھائی جس میں ریاست کے لیے جلاد کی ذمے داری ادا کرنے والے ایک شخص دفن ہیں۔ ان کی بغل میں ہی وہ قاتل دفن ہیں جنہیں اس جلاد ہی نے یہاں پہنچایا تھا۔

اس شہر خموشاں کے ایک جانب جیتی جاگتی آبادی ہے جس کے کچھ لوگ شام کو یہاں ورزش کرنے آتے ہیں۔ سیاح بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ڈرائیور صاحب کو یقین ہے کہ یہاں دفن لوگ رات گئے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں۔

کچھ وقت گزارنے کے بعد میں نے دونوں پاکستانی صاحبان سے اجازت لی۔ اگلی کہانی آپ کو سناؤں گی سڈنی میں واقع اس ساحل کی جو اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے۔ لیکن ہر سال وہاں 40، 50 افراد چٹان کی بلندی سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دیتے ہیں۔ اسے خودکشی کرنے والوں کے ساحل کے نام سے جانا جاتا ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *