ضرورت مندوں کی مدد کے لیے پی ٹی آئی حکومت کی ‘ٹائیگر فورس’


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے حوالے سے فنڈ قائم کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیاہے۔ یہ فورس گھر گھر جا کر کھانا فراہم کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر نوجوانوں کو کرونا کے خلاف ضرورت مندوں کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اس بار انہیں ‘کرونا ٹائیگر فورس’ کا نام دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے ایک دم لاک ڈاؤن کر دیا تو دیہاڑی پر کام کرنے والوں کے لیے شدید مسائل پیدا ہوں گے۔ ہمیں سوچ سمجھ کرلاک ڈاؤن کے فیصلے پر عمل کرنا چاہیے۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر ایک دم لاک ڈاؤن ہوا تو غریب طبقہ مشکل میں آجائے گا۔

معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار پرائم منسٹر کرونا ریلیف ٹائیگر فورس کی تشکیل کے لیے اس وقت کام کر رہے ہیں۔

عثمان ڈارکا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں نے سیلاب اور زلزلے کے دوران بہترین جذبے کا مظاہرہ کیا تھا۔ نوجوانوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔

ان کے بقول یہ رضا کار فورس قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کی پہرا داری کا کام بھی کرے گی۔ جب کہ نوجوان رضاکار ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی کر سکیں گے اور ہنگامی حالات میں گھروں تک راشن سپلائی اور فوڈ چین بحال رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 31 مارچ سے 10 اپریل تک ملک بھر سے رضاکاروں کی رجسٹریشن سیٹیزن پورٹل پر ہو گی۔

یہ فورس کس طرح سے کام کرے گی اور اس میں کتنے لوگ شامل ہوں گے، اس حوالے سے اب تک تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم اس بارے میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا کہا جا رہا ہے کہ انہیں اس فورس کی ذمہ داری دی جائے گی۔

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ترجمان ریحان احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ہمیں باقاعدہ طور پر اس فورس کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا لیکن ہمارے پاس پہلے ہی تقریباً سات لاکھ رضاکاروں کی رجسٹریشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مشکل صورت حال میں ہم راولپنڈی میں ایک اسپتال سمیت مختلف مقامات پر قرنطینہ سینٹرز پر کام کر رہے ہیں۔ اس کام میں ہمارے رضا کار موجود ہیں اور عام انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔

ریحان احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس بڑی تعداد میں لوگوں کی کالز آ رہی ہیں جو رضا کار بن کر اس وبا کے خلاف کام کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت کی طرف سے ایسا ٹاسک دیا گیا تو ہم اس پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ٹائیگر فورس کام کیسے کرے گی

ٹائیگر فورس کے لیے اب تک اعلان کردہ تفصیلات کے مطابق سٹیزن پورٹل کے ذریعے ان تمام افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی جو رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے اور کھانے کی فراہمی لیے حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے پاس ان تمام افراد کا ڈیٹا موجود ہوگا اور مختلف امدادی اداروں کی طرف سے تیار کھانا ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں تیار کیا جائے گا اور اس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے پاس موجود رضاکاروں کو ان ہی کے علاقوں میں ضرورت مند لوگوں کے گھروں تک کھانا فراہم کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے سٹیزن پورٹل پر رجسٹرڈ رضاکاروں کو شامل کیا جائے گا جب کہ انہیں کھانے کے پیکٹس فراہم کیے جائیں گے جو وہ اپنے اپنے علاقوں میں تقسیم کریں گے۔

پاکستان میں رضاکار

پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اس طرح کی رضاکار فورس بنی ہو۔ ماضی میں بھی پاکستان میں رضاکاروں کی ایسی فورس بنتی رہی ہے۔

سال 2005 میں آنے والے زلزلے کے بعد بھی حکومتی سرپرستی میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے تحت ایسی ہی فورس بنائی گئی تھی جو زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد فراہم کر رہی تھی۔

رضاکار ابھی کیسے کام کر رہے ہیں؟

ملک بھر میں اس وقت مختلف فلاحی تنظیمیں وزیراعظم کے اعلان سے پہلے ہی گھر گھر راشن اور کھانا فراہم کرنے کا کام کر رہی ہیں۔

کراچی میں ابوالحسن اسکاؤٹ کے نعیم احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رضا کار پہلے ہی غریب اور ضرورت مند لوگوں کو راشن فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں کیونکہ اس وبا کی وجہ سے روزانہ کی بنیادوں پر کھانا فراہم کرنے کے لیے جانا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ لہذا ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے اسکاؤٹس کو راشن پہنچانے کے لیے استعمال کریں۔

یہ سامان کہاں سے آ رہا ہے اور تقسیم کیسے ہو رہا ہے؟ اس سوال پر نعیم احمد نے بتایا کہ مختلف فلاحی تنظیمیں اور مخیر حضرات انہیں سامان فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے پاس انہیں مستحقین تک پہنچانے کا انتظام نہیں ہے۔ لہذا وہ ہمیں یہ سامان فراہم کرتے ہیں۔ زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے ضرورت مند ہمیں رابطہ کرتے ہیں جس کے بعد ہمارے رضا کار اسکاؤٹس انہیں گھروں پر راشن فراہم کر دیتے ہیں۔

ان اسکاؤٹس کی حفاظت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارے اسکاؤٹس تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اس وبا کی وجہ سے انہیں ماسک۔ گلووز اور سینیٹائزر فراہم کیے گئے ہیں جس کے بعد وہ ضرورت مندوں تک سامان پہنچا رہے ہیں۔

نعیم احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لوگوں میں مدد کا جذبہ بہت زیادہ ہے اور کم استطاعت رکھنے والے لوگ بھی ہم سے رابطہ کرکے مستحقین کے لیے سامان فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *