شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کا نیا تجربہ

شمالی کوریا نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ میزائل اتوار کی صبح مشرقی ساحل سے داغے گئے جو 230 کلو میٹر کے فاصلہ پر سمندر میں گرے۔

امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے رواں ماہ کے دوران کیا جانے والا میزائلوں کا یہ چھٹا تجربہ ہے۔ یہ تجربات ایسے ماحول میں کیے گئے ہیں جب کہ دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔

فرانس کے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میزائل ساحلی شہر وونسان کی دو بندگاہوں سے داغے گئے جو سطح سمندر سے 30 کلو میٹر بلندی پر سفر کرتے ہوئے 230 کلو میٹر کے فاصلے پر بحر جاپان میں گرے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے مزید بتایا کہ تجربات ایسے نامناسب حالات میں کیے گئے ہیں جب دنیا کووڈ 19 کے مسائل میں الجھی ہوئی ہے اور اسے مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔

ادھر ٹوکیو کی وزارت دفاع نے کہا کہ ‘بیلسٹک میزائل نما اشیا’ جاپانی پانیوں یا ملک کے خصوصی معاشی زون میں داخل نہیں ہوئیں۔

پیانگ یانگ کی جانب سے کئے گئے تجربات کو امریکہ کے ساتھ تخفیف اسلحہ سے متعلق ہونے والے مذاکرات میں طویل تعطل کا نتیجہ سمجھا جارہا ہے۔

ایک ہفتہ قبل بھی جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا نے دو شارٹ رینج بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا جسے اس نے ایک ‘نیا شاطرانہ ہتھیار’ قرار دیا تھا۔

اس تجربے کے اگلے روز ہی شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ایک خط بھیجا ہے جس میں تعلقات کو فروغ دینے کے منصوبے کی تفصیل دی گئی ہے۔

اس خط میں صدر کم کی بااختیار اور طاقت کا مرکز سمجھی جانے والی بہن کم یو جونگ کا حوالہ دیا گیا تھا جنہوں نے متنبہ کیا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بظاہر جس طرح کے ذاتی تعلقات ہیں وہ وسیع تر تعلقات کو فروغ دینے کے لئے کافی نہیں۔

شمالی کوریا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب تک کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے لیکن دنیا بھر میں اس وبا کی بدولت ایک سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔ وائرس سے اب تک 6 لاکھ 40 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جب کہ مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہنوئی میں کم اور ٹرمپ کے درمیان بے نتیجہ ختم ہونے والے سربراہی اجلاس کے بعد شمالی کوریا ایک سال سے زیادہ عرصے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنارہا ہے۔

‘اے ایف پی’ کے مطابق سربراہی اجلاس کے بعد سے اب تک امریکہ اور شمالی کوریا کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایسے میں شمالی کوریا کا ہتھیاروں میں کمی کرنے پر رضامند ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کی جانب سے پہلے ہی ان خیالات کا اظہار کیا جاچکا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو جوہری اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے تجربات نہ کرنے کا پابند نہیں سمجھتا۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *