رضاکارانہ خون کا عطیہ دینے میں کمی، تھیلیسیمیا مریض پریشان -Daily Jang-Latest News-Health

جنگ نیوز

ملک میں کورونا کے پیش نظر رضاکارانہ خون کا عطیہ نہ ہونے سے خون کے مرض میں مبتلا تھیلیسیمیا بچوں کے لیے خون کی شدید کمی کا سامنا ہوگیا ہے۔

خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ کریں تاکہ ان بچوں کی زندگیاں بچائیں جا سکیں۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا کے لاک ڈاؤن سے کاروبار زندگی تو متاثر ہے ان کے ساتھ ایسے مریض بھی پریشانی کا شکار ہیں جنہیں علاج یا خون کی لازمی ضررت ہوتی ہے۔

ان میں تھیلیسمیا کے شکار بچے بھی شامل ہیں جنہیں خون کی دستیابی مشکل ہوگئی ہے۔

ماہر امراض خون اور عمر ثنا فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر ثاقب انصاری کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں خون کی شدید قلت کا سامنا ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق ملک میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں جن کے لیے دو لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

متاثرہ بچے، والدین اور ڈاکٹرز عوام الناس سے اپیل کر رہے ہیں کہ خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ کریں تاکہ ان بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔




Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *