کرونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اسامہ خود نشانہ بن گئے


گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان ڈاکٹر اسامہ رياض کرونا سے متاثرہ افراد کی اسکرينگ کرتے ہوئے خود اس مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ وہ اسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے۔ گلگت بلستان حکومت کے ترجمان نے ان کے موت کی تصدیق کر دی ہے۔

ڈاکٹر اسامہ رياض گلگ بلتستان حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے جگلوٹ کے مقام پر اسکرينگ کے مرکزميں تعينات تھے۔ جہاں پر وہ تفتان سے آن والے زائرين کی سکرينگ کرتے تھے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فيض اللہ فراق نے بتايا کہ ڈاکٹر اسامہ ریاض کو ہفتے کے روز اسپتال ميں لائے جانے کے بعد جب ان کا کرونا وائرس کا ٹيسٹ کيا گيا تو وہ مثبت آيا۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کے دماغ اور گردوں نے بھی کام کرنا چھوڑ ديا تھا۔

حکومتی ترجمان نے تفتان اتھارٹی کو شديد تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں سے آنے والے پجاس فيصد زائرين کے کرونا ٹيسٹ مثبت آتے ہيں جو کہ ايک سنگين مسئلہ ہے۔

ياد رہے کہ ايران سے تفتان کے ذريعے گلگت بلتستان ميں اب تک دو ہزار سے زائد زائرين آ چکے ہيں۔

ڈاکٹر اسامہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ انھوں نے ايک سال قبل بہاولپور کے قائداعظم ميڈيکل کالج سے ڈگری لی تھی۔ جس کے بعد گلگت واپس آ کر طب کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ انھوں نے حال ہی میں ايف سی پی ايس کا امتحان پاس کيا تھا۔

قريبی رشتہ دار، شاہ فيصل، کے مطابق جمعے کے روز جب وہ شام کو ڈيوٹی سے گھر واپس آئے تو کافی تھکے ہوئے تھے اور کھانا کھانے کے فورا بعد سونے کے لئے چلے گئے۔ تاہم صبح انہیں بے ہوشی کی حالت ميں پايا گيا۔ انھيں قريبی اسپتال لے جايا گيا ليکن وہاں پر سی ٹی سکين کی سہولت موجود نہیں تھی اور ہمارے اصرار کے باوجود انھيں ہيلی کاپٹر سے اسلام آباد نہیں لے جايا گيا۔

گلگت بلتستان کے ایک مقامی صحافی جميل نگری نے وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے بتايا کہ حکومت نے ڈاکٹرز کو مکمل ميڈيکل کٹس فراہم نہيں کی تھيں اور اسی وجہ سے ہفتے کے روز ڈاکٹروں نے اپنی پريس کانفرنس خدشات کا اظہار کيا تھا۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں نے ڈاکٹر اسامہ رياض کی ہلاکت کو ضروری طبی سامان کی عدم دستيابی قرار ديا۔

گلگت بلتستان کے اسکرينگ کيمپ کے آفيسر، ڈاکٹر شاہ زمان، نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ ڈاکٹر اسامہ صرف اکيلے کرونا وائرس کی اسکريننگ کے لئے تعينات نہيں تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور ڈاکٹر اور انتظاميہ کے ارکان بھی تھے۔

ان کے مطابق اس تمام واقعے کی تحقيقات کے لئے اعلی سطح کی کميٹی بنا دی گئی ہے جو ان تمام امور کا جائزہ لے گی۔

قريبی رشتہ دار شاہ فيصل کے مطابق ڈاکٹر اسامہ روزانہ جٹيال ميں واقع اپنے گھر سے صبح ڈيوٹی پر جاتے تھے اور شام کو گھر واپس آ جاتے تھے۔

ان کے والدين نے اپنی ساری جمع پونجی اپنے بيٹے کو ڈاکٹر بنانے پر لگا دی تھی۔ ان کا ايک اور بھائی بھی ہے۔ شاہ فيصل کے مطابق ڈاکٹر اسامہ امريکہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند تھے جس کے بعد وہ اپنے علاقے میں لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *