موٹر ساز کمپنیاں وینٹی لیٹرز بنائیں گی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکہ میں کاریں بنانے والی تین کمپنیوں کو وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری طبی سامان بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ ان طبی ضروریات کو پورا کیا جا سکے جن کا سامنا کرونا جیسے ہلاکت خیز وائرس کے دنوں میں ہے۔

جن کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے ان میں جنرل موٹرز، فورڈ موٹرز اور ٹیسلا شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ فورڈ، جنرل موٹرز اور ٹیسلا کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ وینٹی لیٹرز اور دیگر دھاتی مواد جلد از جلد تیار کریں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اس کام میں کتنے اچھے ہیں’’۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے مخالف ڈیموکریٹس تنقید کر رہے تھے کہ وہ 1950 کے کورین جنگ کے زمانے کے اختیارات کیوں استعمال نہیں کر رہے جن کے تحت امریکی کمپنیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ طبی آلات تیار کریں تاکہ کرونا وائرس سے نمٹا جا سکے۔ صدر نے اب تک اس دباؤ کے خلاف مزاحمت دکھائی ہے تاہم بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے رضاکارانہ پیش کش کی تعریف کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں طبی آلات کی ہنگامی بنیادوں پر ترسیل پر کورئیر کمپنی فیڈیکس کے چیف ایگزیکٹو فریڈرک سمتھ کی بھی تعریف کی ہے۔

تاہم بعض ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ صرف رضاکارانہ کوششیں ناکافی ہوں گی۔

فیڈرل ایمرجینسی مینیجمنٹ ایجنسی کے منتظم پیٹر گینئر نے اتوار کو سی این این کو بتایا ہے کہ صدر نے ڈیفینس پروڈکش ایکٹ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت کمپنیوں کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ماسک، وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری طبی سامان تیار کر سکیں۔

ٹرمپ کی ایک اور نقاد ریاست نیویارک سے کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکیسیو کورٹز نے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ وار پاور ایکٹ کا نفاذ عمل میں لائیں۔ ان کے بقول اس میں تذبذب کے سبب امریکہ اور اس کی ریاستوں میں انسانی جانوں کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

امریکہ میں اس وقت تک کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 32 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور کم از کم 414 اموات ہو چکی ہیں۔ اور ان اعداد و شمار میں اضافہ ہو رہا ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کرونانےنیٹ فلکس اورایمیزون کارُخ ٹولی،مولی اورکولی ووڈکی جانب موڑدیا

تصویر: ایمیزون کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد سے معروف اسٹریمنگ ویب سائٹس ایمیزون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *