امریکی صدارتی انتخابی مہم پر کرونا وائرس کے اثرات


کرونا کی وبا جو دنیا 162 کے قریب ملکوں تک پہنچ چکی ہے۔ امریکہ میں نومبر میں ہونے والے انتخابات کی مہم کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اور کئی امریکی ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمریز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس صورت حال کا زیادہ اثر کس پارٹی پر پڑے گا۔

ممتاز تجزیہ کار تھنیک ٹینک ’’پالیٹکس‘‘ کے سربراہ عارف انصار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرونا وائرس کے حوالے سے آئندہ دو ماہ میں صورت حال پر قابو پا لیا گیا تو انتخابی سرگرمیاں معمول پر آ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انتخاب میں ریپبلیکن پارٹی کو یہ فائدہ ہے کہ اس کے امیدوار صرف صدر ٹرمپ ہوں گے۔ جنہیں پارٹی کے اندر سے کسی نے چیلنج نہیں کیآ ہے جب کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو اپنے امیدوار کے لئے پورے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے جس میں کرونا کے سبب رکاوٹیں آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صدر ٹرمپ کا اپنے حق میں سب سے مضبوط استدلال یہ ہے کہ ملک کی معیشت بہت اچھی ہے لیکن اگر کرونا وائرس کے سبب صورت حال نامعلوم وقت تک اسی ہی رہی تو ہر چند کہ صدر ٹرمپ بڑے پیمانے پر معیشت کو درست رکھنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن معاشی صورت حال بگڑ بھی سکتی ہے۔ جسے ڈیمو کریٹس ان کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس قسم کی غیر معمولی صورت حال میں ہمیشہ حکومتوں ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر نامعلوم مدت تک یہ ہی صورت حال برقرار رہی تو انتخابات میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔

تاہم ایک اور تجزیہ کار مسعود ابدالی اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں یہ روایت نہیں ہے۔ یہاں تو 1918 میں اس وقت بھی انتخابات وقت پر ہی ہوئے تھے جب اسپینش فلُو پھیلا ہوا تھا جس نے لاکھوں لوگوں کی جانیں لے لی تھیں، جن میں موجودہ صدر ٹرمپ کے دادا فریڈرک ٹرمپ بھی شامل تھے جو 49 برس کی عمر میں اس مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کرونا وائرس لوگوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے اور صدر ٹرمپ اگرچہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لئے بڑے اقدامات کر رہے ہیں جن میں تیرہ سو ارب ڈالر کا ایک پیکیج بھی شامل ہے۔ کانگریس نے بھی اس کی منظوری کے لئے اپنی تعطیل موخر کر دی ہے۔ لیکن عام آدمی کے ذہن پر ایک خوف کی کیفیت طاری ہے اور لوگ ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہیں جن کا انہیں حالیہ دور میں یا اپنی زندگی میں کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

مسعود ابدالی کا کہنا تھا کہ اگر یہ ہی صورت حال برقرار رہتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ انتخابات کے لئے الیکٹرانک نظام اپنایا جائے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اگست تک بھی صورت حال قابو میں آگئی تو اس کا فائدہ صدر ٹرمپ اور ریپبلیکن پارٹی کو ہو گا۔

لیکن کل کیا ہو گا۔ صرف اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ہوا کا رخ کیا ہے۔

تفیصلی رپورٹ قمرجعفری کی زبانی:


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *