بین الافغان مذاکرات کے لیے ٹیم کا اعلان جلد متوقع ہے: ترجمان افغان صدر


افغان صدر کے معاون ترجمان، دعویٰ خان میناپال نے کہا ہے کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم طے کرنے کے بارے میں افغان حکومت کی سیاست دانوں سے مشاورت جاری ہے۔

اس سوال پر کہ مذاکراتی ٹیم کا اعلان کب ہوگا؟ ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت اس فہرست کو حتمی شکل دے رہی ہے اور چند سیاست دانوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کے روز وائس آف امریکہ کی افغان سروس کی پشتو ٹیم کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔

بقول ترجمان، ’’ہمیں توقع ہے کہ یہ سیاست دان افغان حکومت کو اپنی مشاورت سے نوازیں گے، تاکہ حکومت مذاکراتی ٹیم کا باضابطہ اعلان کرے‘‘۔

میناپال نے بتایا کہ حکومت کا کانٹیکٹ گروپ مذاکرات کے مقام کا اعلان کرے گا۔

بقول ان کے، ’’جونہی ہمیں سیاست دانوں سے ہونے والی مشاورت کی تفصیل میسر ہوتی ہے، حکومت مذاکراتی ٹیم کے ناموں کا اعلان کر دے گی‘‘۔

صدر اشرف غنی کے معاون ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان سمجھوتے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ قیدیوں کی رہائی میں سہولت کار کا کردار ادا کرے گا، لیکن اس کا قانونی اختیار حکومت افغانستان ہی کے پاس ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب قیدیوں کی رہائی ہوتی ہے تو افغانستان کے عوام حکومتی اقدام میں کسی تبدیلی سےآگاہ ہوں گے۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ طالبان تمام 5000 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، بصورت دیگر وہ مذاکرات کے لیے افغان حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ کیا طالبان امریکہ سے سمجھوتا کر رہے ہیں یا افغان حکومت سے؟

ترجمان نے کہا کہ تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ افغانوں کی ہلاکت کو جاری نہیں رہنا چاہیے اور افغان شہری آبادی اور فوجی چوکیوں پر حملے بند ہو جانے چاہئیں۔

اس سوال پر آیا افغان صدر کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے، ترجمان نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بقول ان کے، ’’طریقہ کار بالکل واضح ہے، آیا کتنے افراد کو رہائی دی جائے گی اور یہ رہائی کس طرح ملے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل اس عمل کو مکمل کرنے کی ذمہ دار ہے، اور کونسل تحریری ضمانت نامہ حاصل کرنا چاہے گی۔

ان سے پوچھا گیا چونکہ سیاسی مسائل امن عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، اس لیے کیا سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مشاورت کی جا رہی ہے؟ صدر کے معاون ترجمان نے کہا کہ قومی وحدت والی پچھلی حکومت کے دوران، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ہر اجلاس میں مشاوت مانگی جاتی تھی اور ہر سیاست دان سے مشاورت ہوا کرتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ لڑائی کے دوران افغان قوم نے بے انتہا قربانیاں دی ہیں، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ضمن میں لوگوں کے ساتھ زیادہ مشاورت کے عمل پر زور دیا جائے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 

سرینگر —  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *