‘افغانستان میں مستحکم تبدیلی کے لئے پاکستان کا تعاون درکار ہوگا’

واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تحقیقی ادارے، مڈل ایسٹ انسٹیٹوٹ نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل کے لئے ایک پالیسی دستاویز مرتب کی ہے۔

پالیسی دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی بدلتی صورتحال اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاک امریکہ تعلقات کو مستحکم ہونا چاہئے، جس کے لئے واشنگٹن میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھانا ہوگا۔

اس پالیسی دستاویز پر تبادلہ خیال کے لئے گزشتہ روز مڈل ایسٹ انسٹیٹوٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں پاکستان اور افغانستان اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، مارون وائن بام کا کا کہنا تھا کہ’’ہمیں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا سامنا ہے۔ افغانستان میں پرامن اور مستحکم تبدیلی میں سہولت کے لئے ہمیں پاکستان کے مزید اثر و رسوخ اور شمولیت کی ضرورت ہے۔‘‘

اس موقع پر خطاب میں واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر اور موجودہ سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی نے پاک امریکہ شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

Pakistan's former ambassador to U.S., Jehangir Siddiqui

Pakistan’s former ambassador to U.S., Jehangir Siddiqui

جہانگیر صدیقی کے الفاظ میں ’’اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان باہمی شراکت داری کو وسیع کرنے پر توجہ دیں۔ اس سلسلے میں مڈل ایسٹ انسٹیٹوٹ کی مرتب کردہ پالیسی دستاویز نہایت اہم اور بروقت ہے”۔

انھوں نے کہا کہ یہ پالیسی دستاویز ایک وسیع اور متفقہ رائے کی نمائندگی کرتی ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کی خارجہ پالیسی کمیونٹی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں کیا سوچتی ہے اور دونوں کے مابین مضبوط شراکت داری کو ٹھوس بنانے کے لیے کیا کام کیا جا سکتا ہے۔

تقریب سے واشنگٹن میں تعینات رہنے والے بعض سابق پاکستانی سفیر اور امریکہ کے اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ ماہرین اور واشنگٹن ڈی سی کی تھنک ٹینک کمیونٹی کی بعض اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ پاک امریکہ تعلقات کبھی بھی آسان اور مستحکم نہیں رہے۔ حالیہ برسوں میں ان میں تناو بھی رہا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں نے ورکنگ ریلشن شپ قائم رکھی ہے۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ ماضی میں دو طرفہ تعاون میں متعدد عوامل حائل رہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی اسٹرٹیجک تبدیلی کے بعد دونوں ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کن توقعات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ خطے سے امریکہ کی واپسی دونوں ملکوں کے باہمی مفادات کو یکجا کرنے کے لئے ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے، جس کے لئے پیش کی گئی پالیسی دستاویز ایک مشترکہ فریم آف ریفرنس ہے جس میں تعلقات کو مثبت اور درست سمت میں گامزن کرنے کے لئے ٹھوس تجاویز شامل ہیں۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *