امریکہ میں کرونا وائرس سے ایک اور ہلاکت، بڑے اجتماعات پر پابندیاں


امریکہ میں کرونا وائرس سے ایک اور شخص کی موت واقع ہوئی ہے جب کہ دنیا بھر میں وائرس کے پھیلاؤ کے باعث یورپ، مشرق وسطیٰ اور امریکہ میں بڑے اجتماع سمیت مختلف سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

امریکہ میں اتوار کو کرونا وائرس سے ہلاکت کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد اب تک امریکہ میں اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہو چکی ہے۔

واشنگٹن کے محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے جب کہ نیویارک کے گورنر نے ریاست میں پہلے کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی تصدیق کی ہے۔

امریکہ میں کرونا وائرس کے اب تک 70 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر کیسز مغربی ساحلی علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

واشنگٹن میں ہفتے کو ایک 50 سالہ شخص کی کرونا وائرس سے موت واقع ہوئی تھی اور اسی ریاست میں اتوار کو بھی ایک اور شخص اس وائرس سے موت کے منہ میں چلا گیا تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے اتوار کی شب کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی اور اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ 30 سالہ خاتون میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تھا اور اپنے گھر میں ہی قرنطینہ میں تھیں۔

امریکہ کے صحت اور انسانی خدمت کے وزیر الیکس ازار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کی 75 ہزار ٹیسٹ کٹس موجود ہیں جن کی تعداد میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران مزید اضافہ کیا جائے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں سے امریکہ آنے والوں کی اسکریننگ کی جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے امریکیوں شہریوں کو خبر دار کیا کہ وہ اٹلی اور جنوبی کوریا کے سفر سے گریز کریں اور مذکورہ ملکوں کا سفر کرنے والے شہریوں کو اضافی اسکریننگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکومت نے ‘تھری ایم’ نامی کمپنی سے 35 ملین ماسک بنانے کا معاہدہ کیا ہے جو ایک ماہ کے اندر آرڈر فراہم کرے گی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ماسک کی خریداری نہ کریں کیوں کہ محکمہ صحت کے ورکرز کو اس کی فوری ضرورت ہے۔

‘حکومت وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں’

مائیک پینس نے مقامی ٹی وی چینل ‘فاکس نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش آئندہ چھ ہفتوں میں شروع ہو جائے گی تاہم یہ ویکسین موجودہ سیزن میں دستیاب نہیں ہو گی۔

امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس امیدوار کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے حالیہ اقدامات پر صدر ٹرمپ کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس امیدواروں کا کہنا ہے کہ حکومت وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے زبردست کمی دیکھی گئی۔ 2008 کے مالی بحران کے بعد عالمی انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ کرونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر مختلف پابندیوں کے باعث دنیا بھر کی مارکیٹس کو پانچ کھرب ڈالر سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے۔

ہیوسٹن میں انرجی کانفرنس منسوخ کر دی گئی ہے جس میں توانائی کمپنیوں اور آئل منسٹرز کو شریک ہونا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے اپنے ملازمین کے غیر ضروری سفر پر پابندی اور سرحد پر سخت چیکنگ کے باعث کانفرنس منسوخ کی گئی ہے۔

اٹلی میں آئندہ ماہ منعقد ہونے والی ‘ورلڈ اکنامک کانفرنس’ بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں پاپ فرانسس کو شریک ہونا تھا۔

امریکہ کی ڈیلٹا ایئرلائن کا کہنا ہے کہ اٹلی کے شہر میلان کے لیے انہوں نے مئی تک تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ تاہم روم کے لیے پروازیں جاری رہیں گی۔ اٹلی کے شہر میلان میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *