برونڈی میں چھ ہزار افراد کی اجتماعی قبریں دریافت


برونڈی میں حقائق کی تلاش اور مفاہمت کے لیے کام کرنے والے کمشن نے صوبے کروسی میں مزید چھ اجتماعی قبریں دریافت کی ہیں، جن میں 6000 ہزار سے زیادہ افراد کی باقیات کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے جنوری میں تلاش کی مہم شروع کیے جانے کے بعد سے سب سے بڑی دریافت ہے۔

کمشن کے چیئرمین پیری کلیور نڈائی کارلی نے جمعے کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس مہم کے دوران ہلاک ہونے والے 6032 افراد کی باقیات اور ہزاروں کی تعداد میں گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

ان میں سے کچھ لوگوں کو ان کے کپڑوں، عینکوں اور دیگر نشانیوں کی مدد سے شناخت کیا گیا۔

مشرقی افریقہ کے اس چھوٹے سے ملک کے لوگ ماضی میں ہونے والے پرتشدد دہشت گردیوں کے واقعات کے بعد خانہ جنگی اور عشروں سے جاری نسل کشی کے اثرات سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کمشن کے سربراہ نے ماضی میں ہونے والی اس نسل کشی کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں حملہ آور ہوتی نسل کے افراد تھے، کہا کہ متاثرین کے خاندان اب اس قابل ہو گئے ہیں کہ وہ 48 برسوں سے جاری زبان بندی کو توڑتے ہوئے واقعات بتا سکیں۔

برونڈی کی آبادی دو نسلی گروپوں توتسی اور ہوتو میں منقسم ہے۔ نسلی بنیاد پر ہونے والی اس خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ یہ جنگ 2005 میں ختم ہوئی تھی۔

حکومت نے 2014 میں ان ظالمانہ کارروائیوں کی تحقیقات کے ایک کمشن قائم کیا تھا۔ ان واقعات کی شروعات 1885 میں غیر ملکیوں کی آمد سے شروع ہوئی تھی۔ سن 2008 میں ایک امن معاہدے کے مکمل اطلاق کے بعد خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔

اس وقت تک برونڈی ممیں 4000 اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں جن میں ایک لاکھ 42 ہزار سے زیادہ مقتولین کی نشاندہی ہوئی۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مئی 2020 کے عام انتخابات سے پہلے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں تیزی آ سکتی ہے، انکرونزیزا اپنے عہدے کی تیسری متنازع مدت کے لیے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اب تک سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *