سی آئی اے کس طرح پاکستان اور بھارت کا خفیہ ڈیٹا چراتی رہی؟

امریکہ اور جرمنی کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سالہا سال سے پاکستان، بھارت اور ایران سمیت مختلف ممالک کا خفیہ ڈیٹا چُرانے کا انکشاف ہوا ہے۔

دُنیا کے مختلف ممالک کے جاسوسوں، سفارت کاروں اور فوجیوں کے مابین ہونے والے رابطوں کو خفیہ رکھنے کے لیے سوئٹزر لینڈ کی کمپنی ‘کرپٹو اے جی’ کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کمپنی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور جرمنی کے خفیہ اداروں کے زیر نگرانی کام کر رہی تھی۔

اس کمپنی کے 120 کے لگ بھگ صارفین ملکوں میں پاکستان، ایران، بھارت، ویٹی کن اور لاطینی امریکہ کے ممالک بھی شامل تھے۔ یہ کمپنی ان ممالک کو خفیہ معلومات محفوظ رکھنے کے آلات فراہم کرتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سوئس کمپنی سرد جنگ سے لے کر 2000 کی دہائی تک ان ممالک کو سروسز فراہم کرنے کے عوض لاکھوں ڈالر بھی کماتی رہی۔ ساتھ ہی امریکہ اور جرمنی کی خفیہ ایجنسیاں اس کمپنی کے آلات تک رسائی کے ذریعے ان ممالک کی خفیہ معلومات چوری کرتی رہیں۔

دہائیوں تک چلنے والے اس نظام کی تفصیلات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور جرمنی کے براڈ کاسٹر ‘زیڈ ٹی ایف’ نے مشترکہ طور پر شائع کی ہیں۔

سعودی عرب، اٹلی، انڈونیشیا، عراق، لیبیا اور ساؤتھ کوریا بھی کرپٹو اے جی کی خدمات حاصل کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کے افسران اور مذکورہ کمپنی کے حکام کے اس بندوبست کے درمیان ایک بار اختلافات کے باعث یہ منصوبہ ٹھپ ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن بعدازاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اُن ملکوں کی خفیہ معلومات چراتے رہے، جنہیں محفوظ رکھنے کے لیے یہ ممالک کمپنی کو لاکھوں ڈالرز ادا کرتے تھے۔

سی آئی اے کی ایک دستاویز کے مطابق اس آپریشن کو صدی کی سب سے بڑی مداخلت قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1970 کی دہائی میں سی آئی اے اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے ‘کرپٹو اے جی’ کے نظام کو پوری طرح کنٹرول کیا۔ جن میں اس کمپنی میں بھرتیوں، ٹیکنالوجی کے انتخاب سے لے کر ملکوں کا انتخاب بھی شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے ذریعے امریکہ نے 1979 میں سفارت کاروں کے بحران کے دوران ایرانی حکام پر نظر رکھنے کے علاوہ فاک لینڈ جنگ کے دوران ارجینٹینا کی خفیہ معلومات برطانیہ کو دیں۔ اس کے علاوہ 1986 میں برلن کے ڈسکو میں دھماکوں کے بعد لیبیا کے حکام کے مبارکباد کے پیغامات تک رسائی بھی حاصل کی۔

البتہ امریکہ کے حریف سمجھے جانے والے ممالک روس اور چین نے کبھی بھی اس کمپنی کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ لیکن جن ممالک کی خفیہ معلومات تک سی آئی اے کی رسائی تھی، اُن کی ماسکو اور بیجنگ سے ہونے والے رابطوں سے سی آئی اے نے استفادہ کیا۔

جرمنی کی خفیہ ایجنسی ‘بی اینڈ ڈی’ نے راز فاش ہونے کے خدشے کے پیش نظر 1990 کی دہائی میں خود کو اس عمل سے الگ کر لیا۔ البتہ سی آئی اے 2018 تک مذکورہ کمپنی سے استفادہ کرتی رہی۔

2018 میں کرپٹو اے جی کو ایک سرمایہ دار نے خرید لیا اور اس کا نیا نام کرپٹو انٹرنیشنل رکھا گیا۔ نئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اُن کا اب دُنیا کی کسی خفیہ ایجنسی سے تعلق نہیں ہے۔

کمپنی کے چیئرمین آندریاس لنڈے کا کہنا ہے کہ اُنہیں کمپنی کے سی آئی اے یا بی این ڈے سے تعلق کا علم نہیں تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو یہ نہ صرف میرے بلکہ میرے خاندان، کمپنی ملازمین اور اُن ممالک کے ساتھ دھوکہ ہے جن کی معلومات چوری ہوتی رہیں۔

سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ کمپنی کے ‘سی آئی اے’ اور ‘بی این ڈی’ سے مبینہ تعلق کی مکمل تحقیقات کرائے گی۔

سوئس حکومت نے رواں ماہ کے آغاز پر کرپٹو اے جی کا لائسنس بھی معطل کر دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں سی آئی اے اور بی این ڈی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ان خفیہ اداروں کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *