چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز

چين کے شہر ووہان ميں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ يہ تعداد عالمی سطح پر 2002 اور 2003 ميں پھيلنے والی سانس کی بيماری ‘سارس’ سے مرنے والوں کی تعداد سے بھی زيادہ ہو گئی ہے۔​

نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو کرونا وائرس سے مزید 97 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ایک روز کے دوران یہ ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 908 تک پہنچ چکی ہے۔ چین بھر میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 41 ہزار 171 ہو گئی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق کرونا وائرس سے بیشتر ہلاکتیں صوبہ ہوبی کے شہری ووہان میں ہوئی ہیں۔

کم از کم 25 ملکوں نے کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے اور انہوں نے اپنے شہریوں کو ہوبئی سے نکال لیا ہے۔

دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں نے چین کے لیے اپنی پروازیں منقطع کر رکھی ہیں تاکہ اس وائرس سے دوسرے ملکوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ چین میں پچھلے چار دنوں کے مقابلے میں صورت حال کسی حد تک مستحکم نظر آئی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا جب کہ اعداد و شمار میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 37 ہزار 200 ہوگئی ہے۔

نئے قمری کلینڈر کے آغاز کے باوجود چین کے متعدد شہروں میں زندگی معمول پر نہیں آسکی ہے اور لوگ اب بھی اپنے اپنے کاموں پر واپس نہیں آئے۔

شنگھائی میں لوگوں کو ماسک پہننے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ہوبی میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ ضرورت کا سامان خریدنے کے لیے ایک گھر سے صرف ایک فرد ہر دوسرے دن گھر سے نکلے۔

عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ مائیکل ریان نے کہا ہے کہ صورت حال میں نسبتاً استحکام ، وائرس کے خلاف اٹھائے جانے والے سخت اقدامات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی سفارت خانے کے مطابق ووہان میں چین میں پہلے غیر ملکی افراد میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

وائرس سے امریکی شخص ہلاک

جمعرات کو وائرس سے متاثرہ ایک 60 سالہ امریکی ہلاک ہو گیا تھا۔ ادھر ساٹھ سال کی عمر کے ایک جاپانی شہری کی کرونا وائرس سے مشتبہ ہلاکت بھی سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل فلپائن اور ہانگ کانگ میں ایک ایک فرد اس مرض کے سبب ہلاک ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے وائرس ‘سارس’ اور ‘کرونا’ کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے تاہم دونوں امراض میں اموات کی شرح کم ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *