عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکہ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جمعے کے روز بھی جاری رہا۔ مظاہرین ایرانی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی کال پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ شرکا نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ مخالف نعرے درج تھے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، مظاہرین بغداد کے علاقے ‘الحریہ’ میں جمعے کی صبح سے ہی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ تاہم، مظاہرین نے احتجاج کا بڑا مرکز سمجھے جانے والے ‘تحریر اسکوائر’ جانے سے گریز کیا۔

مظاہرے میں شریک محکمہ صحت کے ایک اہل کار، رائد ابو زہرہ نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل اور بدعنوان سیاست دان عراق سے نکل جائیں۔ ہم اس لیے تحریر اسکوائر سے نہیں جا رہے، تاکہ وہاں ہونے والے مظاہروں سے توجہ نہ ہٹ سکے۔”

خیال رہے کہ بغداد کے تحریر اسکوائر اور اس سے ملحقہ جگہوں پر مظاہرین کا کئی ماہ سے قبضہ ہے جنہوں نے وہاں خیمے نصب کر رکھے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک یہ جگہ خالی نہیں کریں گے، جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔

مارچ میں شریک ہزاروں مرد، خواتین اور بچوں نے ہاتھوں میں سُرخ، کالے اور سفید رنگ کے جھنڈے اُٹھا رکھے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، شرکا کو عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورس کا تحفظ حاصل تھا۔

دارالحکومت بغداد میں گرین زون جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

دارالحکومت بغداد میں گرین زون جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

بغداد کا گرین زون جہاں غیر ملکی مشن اور اہم تنصیبات ہیں وہاں کنکریٹ کے بلاکس کے ذریعے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مظاہرین عراق میں امریکی قوت کا مرکز سمجھے جانے والے امریکی سفارت خانے کی جانب جانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں ہونے والے مظاہروں کی نوعیت مختلف ہے۔ ایک جانب حکومت کے مخالف مظاہرین روزگار، مہنگائی، کرپشن اور توانائی کے بحران پر سراپا احتجاج ہیں۔

دوسری جانب، تین جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کے ایک حلقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

امریکہ مخالف احتجاج کے لیے شیعہ رہنما مقتدی الصدر دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں جس سے حکومت مخالف مظاہرین کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ اُن کی حکومت کے خلاف تحریک ان مظاہروں کے باعث پسِ پشت جا سکتی ہے۔

عراق میں امریکی تنصیبات

عراق میں لگ بھگ چھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ 2011 کے بعد یوں تو امریکہ نے عراق میں مستقل فوجی اڈے ختم کر دیے تھے۔ لیکن، اب بھی عراق کے مغربی صوبے عنبر میں عین الاسد ایئر بیس امریکہ کے زیرِ استعمال ہے۔

عین الاسد ایئر بیس وہی فوجی اڈہ ہے جہاں رواں ماہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

یہ فوجی اڈہ عراقی فوج کی تربیت، معاونت اور مشاورت کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

یوم حق خودارادیت کشمیر پر 5جنوری کو کانفرنس ہوگی

ڈنمارک(پ ر) تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *