‘کرونا وائرس کو شکست دیں گے’، چینی صدر کی امریکی ہم منصب سے گفتگو

چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کر کے اُنہیں کرونا وائرس کے خاتمے لیے چین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے چین کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر شی نے امریکی صدر سے گفتگو میں کہا کہ اس وبا کے خاتمے کے لیے مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور بہت جلد چین اسے شکست دے گا۔

چین کو امریکہ سے یہ گلہ رہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے معاملے پر چین کے خلاف ایک خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل چین کے صدر کرونا وائرس کے خلاف اقدامات کو ‘عوامی جنگ’ قرار دے چکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ چین اپنی تمام تر قوت اور وسائل کے ساتھ اس وبا کا مقابلہ کر رہا ہے۔

چین میں سوشل میڈیا پر ووہان کے اُس ڈاکٹر کی موت پر بھی افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جو اُن آٹھ افراد میں شامل تھا، جنہوں نے اس متوقع وبا کا انکشاف کیا تھا۔

چینی پولیس نے مذکورہ ڈاکٹر لی وین لیانگ سمیت دیگر افراد پر فلو کی طرح کا وائرس پھیلنے کی افواہیں پھیلانے پر سر زنش کی تھی۔

لی وین لیانگ نے ٹوئٹر پر سب سے پہلے ‘سارس’ کی طرح کے کرونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔

لی نے 2002 اور 2003 کے دوران چین مین پھوٹنے والی وبا ‘سارس’ کا حوالہ دیا تھا جس میں 800 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

چینی پولیس نے لی سے زبردستی ایک دستاویز پر بھی دستخط کرا لیے تھے کہ وہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں۔ لیکن لی خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جریدے میں لی وین لیانگ کی موت پر دُکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اس معاملے پر چینی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ اگر پہلے ہی لی کی بات پر کان دھر لیے جاتے تو اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔

امریکہ سمیت مختلف ممالک نے چین پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اُس نے اس وبا کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق چین میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 640 ہو گئی ہے جب کہ مزید 3143 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد مجموعی طور پر 31161 سے زائد مریض اس وائرس سے متاثر ہیں۔

جمعرات کو رپورٹ ہونے والے 3143 کیسز بدھ کو 3694 اور منگل کو 3887 کے مقابلے میں کم ہیں۔ لیکن حکام کے بقول یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ نئے کیسز کی تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

چین سے باہر کرونا وائرس سے ہانگ کانگ اور فلپائن میں دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود دُنیا کے مختلف ممالک نے چین کے ساتھ سفری روابط ترک کر رکھے ہیں۔ اس دوران وہاں سے آںے والے افراد کو بھی الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔

دریں اثنا دُنیا کے 27 ممالک میں وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہو چکا ہے جہاں 327 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *