مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جنگیں ختم کریں گے: صدر ٹرمپ


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کی معیشت نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ وہ سوشلزم کو ملک کا نظام صحت خراب نہیں کرنے دیں گے۔ فوج کو مضبوط بنایا ہے لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکی کی جنگیں ختم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو کانگریس کے دونوں ایوانوں سے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب میں کیا۔

صدر ٹرمپ خطاب کے لیے آئے تو انہوں نے روایت کے برخلاف اسپیکر سے ہاتھ نہیں ملایا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کو اسی ایوان میں خطاب کیا جہاں 18 دسمبر کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور مواخذے کی کارروائی میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات پر اُن کا مواخذہ کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران ری پبلکن ارکان وقفے وقفے سے اپنی نشستوں سے اٹھ کر صدر کا حوصلہ بڑھاتے رہے جب کہ ڈیموکریٹک ارکان صدر کی تقریر کے دوران خاموش رہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ تین سال پہلے ہم نے امریکہ کی عظمت کی واپسی کا آغاز کیا تھا۔ آج میں آپ کے سامنے شاندار نتائج پیش کرنے کے لیے موجود ہوں۔

ان کے بقول، “ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے، جرائم گھٹ رہے ہیں اور امریکہ ترقی کر رہا ہے۔ صرف تین سال میں ہم نے امریکہ کے زوال کی سوچ کو ختم کر دیا ہے۔”

منگل کو اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں جس کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے تک سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اور ہم کبھی پیچھے کی طرف نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں آج جو تصور پیش کر رہا ہوں، وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کیسے دنیا کا سب سے خوش حال معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں ہر شہری امریکہ کی شاندار ترقی میں شریک ہو سکتا ہے۔ جہاں ہر کمیونٹی امریکہ کے غیر معمولی عروج میں شامل ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول، انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے دن سے ہی امریکہ کی معیشت کی بحالی کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔ روزگار کے لیے رکاوٹ بننے والے قواعد ختم کیے۔ تاریخی ٹیکس کٹوتیاں کیں اور منصفانہ تجارتی معاہدوں کے لیے جدوجہد کی۔

صدر ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ایسے موقع پر کیا جب اُنہیں سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ وہ امریکہ کی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

معیشت کی ترقی

صدر ٹرمپ نے کہا کہ “گزشتہ انتظامیہ کے آٹھ سالہ دور میں تین لاکھ افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ میری انتظامیہ کے صرف تین سال میں 35 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔ ریگولیٹری کم کرنے کی ہماری جرات مندانہ مہم کی وجہ سے امریکہ دنیا میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا پیداواری ملک بن چکا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی قوم کی عظیم پیداواری طاقت بحال کر رہے ہیں حالانکہ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکے گا۔ گزشتہ دو ادوار میں ساٹھ ہزار کارخانے بند ہوئے تھے۔ میری انتظامیہ میں بارہ ہزار نئے کارخانے کھلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے سیاست دان آئے اور تجارتی معاہدے نافٹا کو بدلنے کا وعدہ کر کے چلے گئے لیکن کچھ نہیں کیا۔ لیکن ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ چھ دن پہلے میں نے نافٹا کو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے نئے معاہدے سے بدل دیا ہے۔

چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ

ہم نے چین کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے جو ہمارے کارکنوں کا دفاع کرے گا، امریکی حقوق دانش کا تحفظ کرے گا، ہمارے خزانے میں اربوں ڈالر لائے گا اور امریکہ کی مصنوعات اور پیداوار کے لیے وسیع نئی مارکیٹیں کھولے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لیے ہم نے امریکی افواج پر 2200 ارب ڈالر صرف کیے ہیں، ہم نے امریکی افواج کی ایک نئی شاخ تخلیق کی ہے، یعنی خلائی فورس۔ ایک شاندار معاشرے کی تشکیل کے لیے اگلا قدم یہ ہوگا کہ ہر نوجوان امریکہ کو بہترین تعلیم اور امریکی خواب کو پانے کا موقع ملے۔

ان کے بقول، والدین کو اپنے بچوں کو ناکام سرکاری اسکول میں بھیجنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی خاندانوں کی بہترین زندگی کے لیے لازمی ہے کہ انھیں قابل برداشت، دنیا کے جدید ترین اور اعلیٰ معیار کے علاج کی سہولتیں ملیں۔ ہم موجودہ شرائط کے مطابق مریضوں کا تحفظ کریں گے، ہم سوشلزم کو کبھی امریکہ کا نظام صحت برباد نہیں کرنے دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے حال ہی میں فخر سے اس قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت سرکاری اداروں کے ملازم نئے والدین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے گی۔ یہ ملک بھر کے لیے ایک نمونہ عمل ہوگا۔”

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو قانون پسند امریکیوں کی پناہ گاہ ہونا چاہیے، غیر ملکی مجرموں کے لیے نہیں۔ میری انتظامیہ نے امریکہ کی جنوبی سرحد کو محفوظ کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ میری انتظامیہ قومی سلامتی کا سختی کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔ امریکیوں کی زندگی کا تحفظ کرنے کے ساتھ ہم مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جنگیں ختم کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔


خبر کا حوالہ

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا پاکستان ٹیم میں محمد عامر کی جگہ بنتی تھی؟

کراچی —  بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کے مطابق انہوں نے اپنے کریئر میں محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *