افغانستان میں امریکی فوجی طیارہ گر کر تباہ


امریکہ کا ایک فوجی طیارہ، جو افغانستان میں نگرانی کے لیے استعمال ہوتا تھا، طالبان کے زیرِ اثر علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ امریکی فوج کے عہدے داروں نے طیارہ گرنے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

امریکی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل ڈیو گولڈ فین نے واشنگٹن میں بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ، میدان جنگ سے متعلق اطلاعات کے آلات سے لیس E-11A طیارہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم طیارہ گرنے کے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ایک ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایسی علامات موجود نہیں کہ طیارے کو کسی دشمن نے مار گرایا ہو۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیر کو پینٹاگون میں فرانسیسی مسلح افواج کی وزیر فلورنس پارلے کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں اس صورت حال سے آگاہ ہوں۔

افغانستان میں طیارہ گرنے سے متعلق سب سے پہلے سوشل میڈیا پر صوبہ غزنی کے مقامی لوگوں کی جانب سے خبریں آئیں۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کو غزنی کے علاقے سادو خیلو میں امریکی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس میں طیارے کے عملے سمیت سی آئی اے کے اعلیٰ عہدے دار ہلاک ہو گئے۔ طیارے کا ملبہ اور نعشیں حادثے کے مقام پر بکھری پڑی ہیں۔

طالبان عموماً ہلاکتوں کے دعوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں لیکن طالبان کے ترجمان نے ٹوئٹ میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

افغان صوبے غزنی میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ سید عبدالواجد سعادت نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ طیارہ گرنے سے امکانی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ریڈ کراس انسانی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ان چند تنظیموں میں شامل ہے جنہیں طالبان کے زیر اثر علاقوں تک رسائی حاصل ہے۔

ریڈ کراس کے عہدے داروں نے میڈیا پر طیارہ گرنے سے متعلق کوئی اور معلومات شیئر نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ کہ ان کی کوئی ٹیم حادثے کے مقام پر بھیجی گئی ہے۔

ایک صوبائی عہدے دار نے وائس آف امریکہ کے ‘اشنا’ ٹی وی کو بتایا ہے کہ دوسری فورسز بھی حادثے کے مقام پر پہنچ گئی ہیں۔

غزنی کے صوبائی کونسل کے رکن عبدالجامی جامی نے بتایا ہے کہ طیارہ گرنے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ایک غیر ملکی فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام پر اترا اور طیارے کے ملبے کا معائنہ کر کے واپس چلا گیا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً چار گھنٹوں کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز وہاں پہنچ گئیں اور علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 

سرینگر —  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *