چین میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے لیے تیار پاکستانی ڈاکٹر


چين ميں کرونا وائرس سے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پيش نظر ایک پاکستانی ڈاکٹر محمد عثمان جنجوعہ نے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات چينی حکام کو پيش کی ہيں۔ وہ چين ميں مقيم ايسے پہلے پاکستانی ڈاکٹر ہيں جنھوں نے اس وبائی مرض سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے اپنی خدمات پيش کیں۔

پاکستان ميں چينی سفارت خانے نے ان کی اس آفر کو سراہتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ہم ڈاکٹر محمد عثمان جنجوعہ کو، جو کہ چين ميں کرونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے والے ايک غير ملکی رضاکار ڈاکٹر ہيں سراہتے ہيں۔ وہ چانگشا ميڈيکل يونيورسٹی ميں پڑھا رہے ہيں اور ان کا تعلق دينہ (ضلع) جہلم، پاکستان سے ہے۔

چين ميں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد اب بڑھ کر 362 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ مزيد 17 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثرہ ہيں۔ اس مہلک وائرس کی چين سے باہر 25 ممالک ميں بھی تصديق ہو چکی ہے اور اتوار کے روز فلپائن ميں اس وائرس میں مبتلا ایک مریض چل بسا جو چين سے باہر اس وائرس کی پہلی ہلاکت تھی۔

کرونا وائرس گزشتہ سال دسمبر ميں چين کے شہر ووہان ميں پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا اور ديکھتے ہی ديکھتے پورے علاقے ميں پھيل گيا۔

ووہان ميں 500 سے زائد پاکستانی طالب علم مختلف يونيورسٹيوں ميں زير تعليم ہيں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عثمان جنجوعہ نے اس تاثر کو رد کيا کہ وہ ووہان ميں کرونا وائرس سے متاثرہ مريضوں کا علاج کر رہے ہيں۔ انھوں نے بتايا کہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے انھوں نے چينی حکام کو اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پيش کر دی ہیں کيوں کہ ايک ڈاکٹر ہونے کے ناطے ان کا يہ فرض بنتا ہے کہ وہ بھی چينی حکام کے ساتھ اس سانحے کے مقابلے ميں ان کی مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ چينی حکام ان کی پيشکش پر غور کر رہے ہيں۔

ڈاکٹر محمد عثمان جنجوعہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر جہلم سے ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعليم دينہ شہر میں حاصل کی۔ اس کے بعد ميڈيکل کی تعليم کے لئے ہونان يونيورسٹی آف چائنيز ميڈيسن ميں داخلہ ليا۔ وہاں سے ايم بی بی ايس کرنے کے بعد انھوں نے کچھ عرصہ پاکستان ميں کام کيا اور پھر سپيشلائزيشن کرنے کے لئے دوبارہ 2016 ميں چين چلے گئے جہاں انھوں نے سينٹرل ساوتھ يونيورسٹی سے 2019 ميں اپنی ڈگری مکمل کی۔ اس کے بعد سے ڈاکٹر عثمان چانگشا ميڈيکل يونيورسٹی ميں بطور ليکچرر کام کر رہے ہيں۔

ڈاکٹر عثمان چين کے صوبے ہونان ميں ہيں۔ انہوں نے بتایا کہ وبا کی لپیٹ میں آنے والا شہر ووہان ان سے 350 کلوميٹر کے فاصلے پر ہے۔

ووہان شہر ميں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بارے ميں ان کا کہنا تھا کہ اس ميں کوئی شک نہیں کہ يہ صورت حال کافی پريشان کُن اور کافی پُر خطر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ووہان کی صورت حال کے پیش نظر انہوں نے سوچا کہ یہی اصل خدمت کا وقت ہے۔ اسی جذبے کے تحت ميں نے چينی حکام کو اپنی خدمات پيش کيں۔ چینی حکام نے ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سیکیورٹی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

ادھر دينہ ميں ڈاکٹر عثمان کے گھر لوگوں کا تانتا بنا ہوا ہے جو ان کے والد اورنگزيب، کو ڈاکٹر عثمان کی دلیری اور انسانی خدمت سے سرشار جذبے پر مبارکباد دينے کے لئے آ رہے ہے۔ اورنگزيب کے دو بيٹے اور ايک بيٹی ہيں۔ ان کے دوسرے بيٹے جرمنی ميں انجنيئرنگ کی تعلييم حاصل کر رہے ہيں۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتايا کہ کچھ دن قبل ان کے بيٹے نے انھيں فون پر کرونا وئرس کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس مہلک وائرس کے خلاف اپنی خدمات پيش کرنا چاہتے ہيں جس کی ميں نے انہیں اجازت دے دی کہ يہ نيکی اور انسانی بھلائی کا کام ہے۔

29 سالہ ڈاکٹر عثمان کا کہنا ہے کہ وہ ايک ڈاکٹر ہيں اور وہ کوئی انوکھا کام نہیں کر رہے۔ کيونکہ چائنيز ڈاکٹر پہلے سے ہی ووہان ميں وائرس میں مبتلا مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کر رہے ہيں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *