ذہنی دباؤ سے بچیں ورنہ سر سفید ہو جائے گا


ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں کیونکہ اس سے آپ کے بال نہ صرف وقت سے پہلے سفید ہو جائیں گے بلکہ وہ بے جان سے بھی دکھائی دینے لگیں گے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ ہمارے جسم کے معدافتی نظام پر کچھ اس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے جس سے ہماری جلد میں موجود ان خلیوں کی کارکردگی میں خلل پڑتا ہے جو بالوں کے لیے رنگ پیدا کرتے ہیں۔ اس سے بال نہ صرف سفید پڑنے لگتے ہیں بلکہ ان کی قدرتی چمک بھی جاتی رہتی ہے اور تعداد بھی گھٹ جاتی ہے۔

سفید بال کو صدیوں سے ذہنی دباؤ سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی ایک واضح مثال امریکی صدور ہیں۔ اپنا عہدہ سنبھالنے اور عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے بالوں کی رنگت ذہنی دباؤ کے اثرات کا ایک ٹھوس ثبوت پیش کرتی ہے۔

اگرچہ یہ بات عرصے سے تسلیم کی جاتی رہی ہے کہ ذہنی دباؤ سے بال بہت جلد سفید ہو جاتے ہیں، مگر ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کا کوئی سائنسی جواز موجود نہیں تھا۔ لیکن اب حال ہی میں ایک سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ میں اس کی وجوہات پر بات کی گئی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں سٹم سیل مائیکرو بیالوجسٹ اور اس تحقیق میں شامل یا چی ہسو کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ سے بالوں کی رنگت سفید ہونے کے عمومی تصور کا اب ہمارے پاس ایک قابل قبول جواز موجود ہے۔ اور اس سلسلے میں ہونے والی تحقیق نے نئی راہیں کھول دی ہیں۔

ہسو اور ان کی ٹیم نے مرچوں میں پائے جانے والے ایک جزو کو انجکشن کے ذریعے چوہوں کے جسم میں داخل کیا تاکہ اس کی جلن سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پانچ ہی دنوں میں چوہوں کے بال سفید پڑ گئے۔ جب انہوں نے چوہوں کے معدافتی اور اعصابی نظام کا معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ بالوں کو رنگت فراہم کرنے والے خلیوں پر اثرانداز ہو رہے تھے۔

بالوں کے غدودوں میں، جن میں موجود خلیے رنگ پیدا کرتے ہیں، ان میں ایک خاص سطح تک رنگ پیدا کرنے کی استطاعت ہوتی ہے۔ جب وہ رنگ استعمال ہو جاتا ہے تو پھر بالوں کو رنگ کی فراہمی رک جاتی ہے اور وہ سفید پڑ جاتے ہیں۔

بالوں کی رنگت اور ذہنی دباؤ پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ حسیاتی دباؤ نے چوہوں کے اعصابی نظام کے اس حصے کو نشانہ بنایا، جو دباؤ کا مقابلہ کرنے والے معدافتی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ جس سے بالوں کے لیے رنگ پیدا کرنے والے غدودوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور بال سفید ہونا شروع ہو گئے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے عمر کے ساتھ بالوں کے سفید ہونے کا عمل اس سے مختلف ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ بالوں کو رنگ فراہم کرنے والے خلیے کمزور پڑنے لگتے ہیں جس سے بالوں کو رنگ ملنے کا عمل رک جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پہلے ان کی رنگت ہلکی پڑتی ہے اور جب رنگ کی فراہمی مکمل طور پر رک جاتی ہے تو وہ سفید ہو جاتے ہیں۔


Source link

اس بارے میں admin

یہ بھی دیکھیں

موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *